رسائی کے لنکس

logo-print

'نئے صوبے کے قیام کے لیے حزبِ اختلاف تعاون کرے'


شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کی غرض سے آئینی ترمیم کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں سے حمایت طلب کر لی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کو جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کے وعدے پر ووٹ ملے۔ اس بل پر پیپلز پارٹی نے بھی ہماری حمایت کی ہے، مسلم لیگ (ن) بھی ہمارا ساتھ دے۔

بدھ کو ملتان کے سرکٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل قوانین کے مطابق پیش کیا گیا ہے اور ایوان کی اکثریت نے اس بل پر غور کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل ایک، 59، 198 کی شق دو اور آرٹیکل 218 میں ترامیم کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام جماعتوں کی حمایت چاہیے ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ نیا صوبہ ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے ڈویژنز پر مشتمل ہو گا۔ صوبے کے قیام کے بعد پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 251 اور جنوبی پنجاب کی اسمبلی کی 120 نشستیں ہو جائیں گی جب کہ اسی اعتبار سے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بھی مقرر کی جائے گی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کے مطابق، پنجاب کے تین صوبے نہیں بن سکتے اور صرف بہاولپور ڈویژن کے تین اضلاع پر مشتمل صوبہ بننا مشکل ہے۔ اس لیے، ان کے بقول، جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے الگ الگ صوبوں کے مطالبے پر مسلم لیگ (ن) کا اصرار درست نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (قائدِ اعظم) کو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام پر راضی کر لیں گے۔

بھارت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ایک سوال پر وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 23 مئی سے بھارتی انتخابات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے اور جو بھی نئی حکومت ہو گی، پاکستان اس سے بات چیت کرے گا۔

پاکستان اور چین کے تعلقات پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں اور انہیں 'سی پیک' (پاک چین اقتصادی راہداری) پسند نہیں۔

ان کے بقول، چینی باشندوں کی پاکستانی خواتین سے شادی کے معاملے کو بھی اسی لیے اچھالا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG