رسائی کے لنکس

logo-print

پختون تحفظ تحریک اور حکومتی جرگہ کے اراکین کے درمیان بات چیت


پختون تحفظ تحریک کے اراکین مطالبات کی منظوری کیلئے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

حکومت اور پختون تحفظ تحریک کے نمائند وں پر مشتمل جرگے کے درمیان مزاکرت کا اہم دور پشاور میں اتوار کے روز ہوا جس میں دونوں فریقین نے مزاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔

کئی گھنٹوں پر محیط مزاکرت کے احتتام پر پختون تحفظ تحریک کی جانب سے جرگے کے سربراہ لطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اُنہوں نے تحریک کے مطالبات حکومتی جرگے کے اراکین کے حوالے کر دئے اور جرگے کا دوسرا جلاس آٹھ جوالائی کو پشاو ر میں ہی ہو گا۔

لطیف آفریدی نے مطالبات کے بارے میں زیاد ہ تفصیلات تو نہیں بتائیں مگر اُنہوں نے کہا کہ مسائل مشترکہ ہیں او ر ان کا مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اپنے مطالبات پر فریقین نے مزاکرت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک آئینی دائرہ کا ر کے تحت سرگرمیاں کرسکتی ہے اور کوئی بھی فریق ایسا کچھ نہ کرے جس سے مزکراتی عمل متاثر ہو۔

حکومتی جرگے کے رکن اور سابق سنیٹر عبدالرحمان نے بھی مزاکراتی عمل جاری رکھنے پر اطمیان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ لوگوں اور بالخصوص قبائلیوں کو درپیش مسائل باہمی اعتماد اور خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ پختون تحفظ تحریک کے تحفظات کو دور کیا جائے ۔

اس موقع پر پختون تحفظ تحریک کے رہنما ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہا کہ اُنہوں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کرفیو کے خاتمے اور نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملوث کراچی پولیس کے سابق افسرراؤ انوار کو دی جا نیوالی مراعات کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ۔

ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہا کہ پی ٹی ایم کا آئیندہ 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں اور جو بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اُنہیں تحریک کی کور کمیٹی سے فارغ کردیا گیا ہے ۔

پختون تحفظ تحریک کے کئی اہم اراکین انفرادی طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ان میں علی وزیر جنوبی وزیرستان، محسن داوڑ شمالی وزیرستان اور عبداللہ ننگیال فرنیٹر ریجنز سے قومی اسمبلی کی نشستوں کیلئے اُمیدواروں میں شامل ہیں۔ اُدھر خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں کراچی پولیس کے سابق افسر راؤ انوار کو سرکاری پروٹول اور مراعات دینے کے خلاف پختون تحفظ تحریک کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG