رسائی کے لنکس

logo-print

ارمان لونی کی ہلاکت پر پولیس کا وضاحتی بیان


کراچی میں پی ٹی ایم کا مظاہرہ، 5 فروری 2019

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں گزشتہ ہفتے کی رات کو پشتون تحفظ موﺅمنٹ کے مرکزی رہنما پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کی ہلاکت کے بارے میں پولیس حکام کا وضاحتی اور تفصیلی بیان سامنے آ گیا ہے۔

اے ڈی ایس پی صدر سرکل لورالائی عطاالرحمان خان ترین کے دستخط سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ دو فروری کو لورالائی بازار میں پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ہونے والے اجلاس میں انہوں نے ژوب ڈویژن کے دیگر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے ساتھ شرکت کی۔

شام کو چار بجے زیر دستخطی نے ڈی ائی جی ژوب کو بتایا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر لورالائی بازار میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ علاقے میں کسی ناخوشگوار واقعہ کے رونما ہونے کے خطرے کے پیش نظر پی ٹی ایم کے رہنماﺅں سے دھرنا ختم کرانے کےلئے مذاکر ات کئے جائیں گے۔ اس مقصد کے تحت زیر دستخطی ڈرائیور اور دیگر اہل کاروں کے ہمراہ پر یس کلب لورالائی کے سامنے دھرنا دینے والے پی ٹی ایم کے رہنماﺅں کے پاس گیا اور پی ٹی ایم کے رہنما جلیل افغان سے ملاقات کی اور اُنہیں سیکورٹی کے خدشات کے باعث دفعہ 144 کے نفاذ کا جاری شدہ نوٹیفیکشن دکھاتے ہوئے دھرنا پرامن طریقے سے ختم کرنے ہدایات دیں۔

بیان کے مطابق جلیل افغان نے 15 منٹ میں دھرنا ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ بعد میں وہ اپنے گھر چلے گئے۔ شام سات بجے سے پہلے ایس ایچ او سید ناصر شاہ نے اُنہیں ٹیلیفون کر کے بتایا کہ وہ پولیس کے 17 اہل کاروں کے ہمراہ لاﺅڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کیس میں مطلوب ملزم ایمل خان توخئی رحیم خان کی گرفتاری کے لئے پر یس کلب پہنچ گئے ہیں، جہاں پی ٹی ایم کے 120/130 کارکنان موجود ہیں۔ ملزم ایمل خان توخئی کی گرفتاری میں پی ٹی ایم کے کارکنوں نے مزاحمت کی ایمل خان توخئی کو گرفتاری سے بچا لیا۔ جس پر زیر دستخطی نے حکم دیا کہ حالات کو خراب نہ کیا جائے اور پولیس کی نفری واپس تھانے چلی جائے۔

statment 1.
statment 1.

اے ایس پی کے بیان کے مطابق کچھ دیر کے بعد ایس ایچ او نے دوبارہ انہیں فون پر بتایا کہ پی ٹی ایم کا ایک کارکن دھکم پیل میں بے ہوش ہو گیا تھا، جسے پی ٹی ایم کے کارکنوں نے اپنی پرائیویٹ گاڑی میں سول اسپتال لورالائی پہنچایا۔ اسپتال میں طبی معائنے کے دوران مذکورہ کارکن جان بحق ہو گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر فہیم نے اُنہیں بتایا کہ مرحوم کے جسم پر بظاہر کسی زخم یا تشدد کے نشانات نہیں پائے گئے، البتہ اسے پوسٹ مارٹم اور میڈیکولیگل رپورٹ کےلئے سول اسپتال کو ئٹہ لے جایا جائے۔

بیان کے مطابق اسی اثناء میں متوفی کے لواحقین اور پی ٹی ایم کے کارکن لاش کو لے کر پہلے باچا خان چوک لورالائی اور بعد میں پولیس تھانہ صدر کے سامنے رکھ دیا اس دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے پی ٹی ایم کے کارکنوں اور لواحقین کو متوفی کا پوسٹ مارٹم کر انے کا مشورہ دیا لیکن وہ پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اگلے روز متوفی کو پوسٹ مارٹم کے لئے کوئٹہ لے جایا گیا۔ رپورٹ آنے پر مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG