رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی ایم کے مطالبے جائز مگر فوج پر تنقید درست نہیں: عمران خان


عمران خان، قبائلی ضلع اورکزئی میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں۔ 19 اپریل 2019

وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کے روز قبائلی ضلع اورکزئی کے اپنے دورے میں ایک عوامی اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے مطالبات کو جائز قرار دیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے لب و لہجے اور فوج پر بے جا تنقید سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امریکہ کے کہنے پر فوج بھیجنا بہت بڑی غلطی تھی جس کی وجہ سے ملک کو بہت بڑا نقصان اُٹھنا پڑا۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں اورکزئی کے عوام کو یقین دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے نقصان کا ازلہ کیا جائے گا۔

اُنہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کو ہدایت کی کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والے تمام قبائلیوں کا اندراج کر کے ان کے تباہ شدہ مکانوں کی تعمیر اور کاروبار کے لیے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیں جائیں۔

اورکزئی میں عمران خان کے جلسے کا ایک منظر۔ 19 اپریل 2019
اورکزئی میں عمران خان کے جلسے کا ایک منظر۔ 19 اپریل 2019

وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے بڑے جلسے کے بعد نہ صرف ارکان پارلیمان بلکہ حکومت بھی اس تحریک کو اہمیت دینے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ چند دن پہلے منظور پشتین کو ارکان پارلیمنٹ نے مدعو کیا اور آج وزیراعظم عمران خان نے اورکزئی ایجنسی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کا ذکر کیا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ عوام کے مسائل کی بات ٹھیک کرتی ہے لیکن فوج کے خلاف نعرے لگانے سے کیا حاصل ہو گا؟ اس کی بجائے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر سید عالم کا ردعمل

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر سید عالم کا کہنا ہے کہ عمران خان یاد کریں کہ جب انھوں نے دھرنا دیا تھا تو کیا نعرے لگائے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی کو بھول جائیں۔ ہم فوجی آپریشن، اپنے شہدا اور علاقوں اور معیشت کی تباہی کو کیسے بھول جائیں؟

رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی

خیبر ایجنسی سے قومی اسمبلی کے رکن منیر اورکزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی قیادت میں فاٹا کے ارکان پارلیمان کا ایک جرگہ ایک دو دن میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گا۔ ان کی نوے فیصد باتیں ٹھیک ہیں لیکن طریقہ کار غلط ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت اور پشتون تحفظ موومنٹ، دونوں کو اپنا لہجہ نرم کرنا ہو گا تاکہ بات آگے بڑھے اور قبائلی عوام کے مسائل جلد از جلد حل کیے جا سکیں۔

افغانستان میں قیام امن کی کوششیں

اورکزئی میں اپنی تقریر کے دوران افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا وہ افغان حکومت کو کوئی مشورہ نہیں دینا چاہتے کیونکہ وہ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہو گا، تب تک اس خطے میں بھی امن نہیں ہو گا، جس کے لیے میں دعاگو ہوں۔

ترقیاتی منصوبے اور معیشت

تعمیر ترقی سے متعلق مقامی آبادی کے مطالبوں پر عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت ملکی معیشت بیرونی قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہے۔ انہوں نے ملک کے نظام کو بہتر بنائے کی کوششوں کی بات کرتے ہوئے کابینہ میں موجودہ ردوبدل کا بھی حوالہ دیا۔

قبائلیوں کے مسائل اور احتجاج

قبائلی ضلع اورکزئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہ ۔ دو روز پہلے ماموزئی قبیلے کے بے گھر افراد نے اپنے حقوق کے لیے پشاور پریس کلب کے سامنے تین دن تک دھرنا دیا جو وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر کے یقین دہانیوں کے بعد ختم ہوا۔

دوسری جانب 24 اپریل کو وزیراعظم عمران کے جنوبی وزیرستان کے ممکنہ دورے کے خلاف محسود قبائل نے احتجاجاً تقریب میں شرکت کے بائیکاٹ کا علان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماع میں شریک ہونے والوں پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG