رسائی کے لنکس

logo-print

پشتون تحفظ موومنٹ اور پارلیمنٹ کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ


پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما منظور پشتین اور محسن داوڑ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ارکانِ سینٹ کے ساتھ۔ 16 اپریل 2019

پاکستان کی پارلیمان اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے جس میں پی ٹی ایم کے منظور پشتین نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی ہم آہنگی و یکجہتی کے اجلاس میں شرکت کی اور سینیٹ کے ارکان کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

خصوصی کمیٹی نے تجویز دی کہ سینیٹ کی کمیٹی سے موثر رابطہ کاری کے لیے پی ٹی ایم اپنا فوکل پرسن مقرر کرے اور اپنے مطالبات کی فہرست تحریری شکل میں کمیٹی کے سامنے پیش کرے تاکہ ان کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد رپورٹ مرتب کی جا سکے۔

اس اجلاس کی صدارت کمیٹی کے کنونیئر بیرسٹر محمد علی سیف نے کی، جب کہ دیگر ارکان میں سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، ستارہ ایاز، مشاہد حسین سید، سجاد حسین طوری، نصیب اللہ بازئی، ہدایت اللہ، دلاور خان، فدا محمد خان، سردار شفیق ترین، ثمینہ سعید، خانزادہ خان، میر کبیر احمد محمد شاہی، پیر صابر شاہ اور مشاہد اللہ خان کے علاوہ ایم این اے محسن داوڑ اور پی ٹی ایم کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر سینیٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ طبقاتی محرومیوں کا ازالہ آئین اور قانون کے تحت ممکن ہے اور ایوان بالاء نے یہ کمیٹی اسی مقصد کے لیے قائم کی ہے تاکہ وہ طبقات جن کی حق تلفی ہو یا جو محرومیوں کا شکار ہوں، ان کے مسائل کا حل نکالا جائے۔

محمد علی سیف نے کہا کہ پشتون ثقافت کی اپنی روایات ہیں اور ان میں جرگہ کلچر ایک ایسی روایت ہے جہاں گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے۔ یہ کمیٹی آئین اور قانون کے مطابق ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے تحفظا ت کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور قابل عمل سفارشات مرتب کر کے شکایات کا ازالہ کیا جائے گا اور پی ٹی ایم کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، تاہم حکومت سے گلے شکوے ہوتے ہیں۔ خطے میں سیکورٹی کی صورت حال کا سامنا ہے اور ہمارے اکثر علاقے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسائل ہر معاشرے کا حصہ ہیں اور ملک کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے اور اس ضمن میں یہ خصوصی کمیٹی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں تمام اراکین اور پی ٹی ایم کی قیادت نے بھر پور تبادلہ خیال کیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کمیٹی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کی بازیابی، بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور ایک حقائق و مصالحتی کمشن تشکیل دینے کے لئے اقدامات کیے جائیں تاکہ ان علاقوں کے عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

منظور پشتین نے کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی پر پورا اعتماد ہے اور کمیٹی کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں اور ان کا حل انتہائی ضروری ہے۔

سینیٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق کمیٹی اراکین نے پی ٹی ایم کے ان مطالبات کو جائز قرار دیا اور کہا کہ ان مسائل کا دیرپا حل نکالنا انتہائی لازمی ہے۔

کمیٹی نے ایک روڈ میپ بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ جائز مطالبات پر ٹھوس سفارشات مرتب کر کے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ آج کا دن بڑا تاریخی دن ہے اور ایک تاریخی نشست ہوئی ہے جو کہ مسائل کے حل کی جانب اہم اقدم ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ گفت و شنید کے اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔ کمیٹی میں سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اور پورے ایوان کی تائید حاصل ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد حسین سید نے اجلاس کے حوالے سے ٹوئٹ کی اور کہا کہ تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس میں پی ٹی ایم کی قیادت نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، انہوں نے پی ٹی ایم قیادت کے ساتھ پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ ہونے والے مذاکرات کو امید کی کرن قرار دیا اور کہا کہ یہ بات مثبت ہے کہ پی ٹی ایم پارلیمنٹ میں ہے اور آئندہ فاٹا میں ہونے والے انتخابات اور افغان پالیسی میں بھی پرانے خیالات سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے اگرچہ دو ارکان گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن کامیاب ہوئے تھے لیکن دونوں ارکان نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا تھا اور پی ٹی ایم کی سپورٹ انہیں حاصل نہیں تھی۔

منظور پشتین کا پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس آنا اور ارکان سینیٹ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس جماعت کو ریاستی اداروں کی طرف سے سخت پیغامات دیے جاتے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی پی ٹی ایم کے لیے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئےکہا تھا کہ” ریاست نے پی ٹی ایم والوں کے ساتھ تعاون کیا، لیکن یہ لوگ جس طرف جا رہے ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ وہ لائن کراس کر لیں، جس کے بعد ریاست کو اپنی رِٹ برقرار رکھنے لے لیے قدم اٹھانا پڑے”۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG