رسائی کے لنکس

logo-print

پشتون تحفظ تحریک کی مقبولیت سے اے این پی کی صفوں میں پریشانی


پشتون تحفظ تحریک کے رہنما گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے ایک احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

گزشتہ دو ماہ کے دوران نسبتاً نوجوان قیادت والی "پشتون تحفظ تحریک" کی تیزی سے مقبولیت اور کامیاب جلسوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ تحریک مستقبل میں اے این پی کی سیاسی حریف بن کر سامنے آسکتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں پختونوں کو درپیش سکیورٹی اور انتظامی مسائل کو منظم طریقے سے اجاگر کرنے والی نسبتاً نئی تنظیم 'پشتون تحفظ تحریک' کے رہنمائوں پر جہاں ایک جانب حکومتی اداروں کی جانب سے مقدمات درج کیے جارہے ہیں تو وہیں دوسری طرف اس تنظیم میں سرگرم عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے منسلک کارکنوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

اے این پی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے پارٹی کی ذیلی تنظیم 'نیشنل یوتھ آرگنائزیشن' کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کو تحلیل کرکے ایک نئی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

تحلیل شدہ کمیٹی کے سربراہ محسن داوڑ تھے جو 'پشتون تحفظ تحریک' کے تین اہم اور سرکردہ رہنمائوں میں شمار ہوتے ہیں۔

'پشتون تحفظ تحریک' قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے کراچی میں پولیس کے جعلی مقابلے میں ہلاکت کے بعد پختونوں کو درپیش مسائل اور ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کو اجاگر کرنے کے لیے لگ بھگ دو ماہ قبل ہی قائم کی گئی تھی۔

اس تحریک کے تین اہم رہنمائوں - منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر - کے خلاف بلوچستان کے مختلف شہروں میں پولیس نے گزشتہ ہفتے ہی حکومت مخالف ریلیاں منعقد کرنے اور تقاریر کرنے کے الزام میں مقدمات درج کیے ہیں۔

اس تحریک نے 25 مارچ کو پشاور میں بھی احتجاج کرنے اور جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے جسے روکنے کے لیے حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔

گو کہ اسفند یار ولی جانب سے جاری بیان میں 'نیشنل یوتھ آرگنائزیشن' کی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے کی وجہ گزشتہ دو سال کے دوران رکنیت سازی مکمل نہ کرنا بتائی گئی ہے لیکن ساتھ ہی بیان میں کہ بھی کہا گیا ہے کہ پارٹی سے منسلک کسی بھی رکن کو دیگر سیاسی تنظیموں میں بغیر اجازت شمولیت کی اجازت نہیں ہے۔

پختون تحفظ تحریک کے تحت ہزاروں افراد نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں کئی روز تک نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف دھرنا بھی دیا تھا۔
پختون تحفظ تحریک کے تحت ہزاروں افراد نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں کئی روز تک نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف دھرنا بھی دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے این پی کی جانب سے محسن داوڑ کے خلاف ایکشن لینے کے پیچھے پختون قوم پرست جماعت کے قائدین کا یہ خوف کار فرما ہوسکتا ہے کہ کہیں کوئی اور تنظیم پختون حقوق کی علامت اور ان کی نمائندہ نہ بن جائے۔

اے این پی گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بالخصوص اور بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں آباد پختونوں کی سب سے بڑی نمائندہ قوم پرست جماعت رہی ہے۔

لیکن گزشتہ دو ماہ کے دوران نسبتاً نوجوان قیادت والی 'پشتون تحفظ تحریک' کی تیزی سے مقبولیت اور کامیاب جلسوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ تحریک مستقبل میں اے این پی کی سیاسی حریف بن کر سامنے آسکتی ہے۔

'پشتون تحفظ تحریک' میں سرگرم اور دیگر قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں اور تنظیموں سے منسلک افراد عوامی نیشنل پارٹی کو محسن داوڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی تحلیل کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تاہم اے این پی کے رہنماؤں نے اسے پارٹی کا اندرونی مسئلہ قرار دیا ہے۔

معطل کی جانے والی کمیٹی کے سربراہ محسن داوڑ نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے کو عوامی نیشنل پارٹی کا تنظیمی مسئلہ قرار دیا۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ انھوں نے نہ صرف ضلعی اور علاقائی سطح پر بلکہ چاروں صوبوں میں بھی 'نیشنل یوتھ آرگنائزیشن' کی تنظیموں کے انتخابات مکمل کیے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی تنظیم کے انتخابات چھ فروری کو ہونا تھے جسے انہوں نے پارٹی قیادت کی ہدایت پر موخر کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG