رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیرہ اسماعیل خان میں پابندی کے باوجود پی ٹی ایم کی ریلی


پشتون تحفظ تحریک کی ایک ریلی کے شرکا، فائل فوٹو

پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے پابندی کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں اتوار کے روز ایک ریلی نکالی جس میں خواتین سمیت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ ریلی سے قومی اسمبلی کے ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ اور عبداللہ ننگیال، افراسیاب خٹک اور بشری گوھر نے خطاب کیا۔

پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین اس ریلی میں شریک نہیں تھے کیونکہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں قید ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک اضلاع کی مختلف عدالتوں نے منظور پشتین کے خلاف درج چھ مقدمات میں ضمانت منظور کر لی ہے تاہم ابھی وہ رہا نہیں ہوئے۔

پی ٹی ایم نے تقریباً ایک ہفتہ قبل حق نواز شھید پارک میں ریلی کے انعقاد کے لیے درخواست دی تھی جس کی ضلعی انتظامیہ نے بعض شرائط کے تحت اجازت دے دی تھی، مگر ایک روز قبل انتظامیہ نے اجازت نامہ منسوخ کر کے ایک مہینے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر کے جلسے اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی۔

لیکن پی ٹی ایم کے مقامی کارکنوں نے چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے رتہ کلاچی میں ریلی کا انعقاد کیا، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

پولیس نے دفعہ 144 کے خلاف ورزی پر پشتون تحفظ تحریک کے 26 کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر کے ان میں سے چار کو گرفتا کر لیا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لئے جنگ کر رھے ھیں۔ وہ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت کو پشتون تحفظ تحریک کی اس پالیسی سے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ اس دھرتی پر مزید جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں کالعدم شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے علیحدہ ھونے والے دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان قاری احسان اللہ احسان کے اہل و عیال سمیت حکومتی تحویل سے فرار کے واقع پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ اور سازش سمجھتے ہیں۔

مقررین نے پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے اندارج اور دباؤ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی ایم کے رہنماؤں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی اور فوجی کاروائیوں کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور یکجتی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG