رسائی کے لنکس

"خدا کے واسطے لڑائی ختم کرو اور ہمارا علاج کرو"


ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن نے پنجاب بھر کے اسپتالوں میں ہڑتال کر رکھی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے صوبہ بھر کے اسپتالوں میں احتجاجاً کام بند رکھا ہے۔ جس کے باعث مریضوں کو علاج معالجے کے لیے دشواری کا سامنا ہے۔

اوکاڑہ کی پچپن سالہ سکینہ بی بی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ جانے یہ کیسے ڈاکٹر ہیں جن کے سامنے مریض تڑپ رہے ہیں اور یہ علاج نہیں کر رہے۔ سکینہ بی بی اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو علاج کے لیے گزشتہ ہفتے اوکاڑہ سے سروسز اسپتال لاہور لائی تھی لیکن ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث اس کے بیٹے کو علاج کی سہولتیں نہ ملنے پر ہاتھ اٹھا کر کہہ رہی ہے کہ اس کے بیٹے کا علاج کرو وہ جگر کے عارضے میں مبتلا ہے۔

پنجاب کے بیشتر شہروں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے گزشتہ آٹھ روز سے ہڑتال پر ہیں۔ جس کا زیادہ اثر لاہور کے تمام سرکاری اسپتالوں پر ہے، جبکہ ملتان گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد اور رحیم یار خان کے اسپتالوں میں بھی ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے مریض اور ان کے اہل خانہ مشکلات سے دوچار ہیں، مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے آنے والوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

اسپتالوں میں ہڑتالی ینگ ڈاکٹرز ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈیوٹی انجام نہیں دے رہے جس کےباعث مریض دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث صوبہ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں متعدد آپریشنز ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر معروف وینس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے لیے نہیں بلکہ مریضوں کے حقوق کی خاطر ہڑتال کی ہے۔

ڈاکٹر معروف وینس کہتے ہیں پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر، ادویات اور جدید مشینری کی کمی کا سامنا ہے۔ جبکہ ان کے مطالبات میں سیکرٹری صحت کا تبادلہ، نیشنل انڈیکشن پالیسی کا خاتمہ، رسک الاؤنس، ہیلتھ انشورنس اور دوران ملازمت بہتر حفاظتی انتظامات بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر معروف کہتے ہیں وہ گزشتہ ہفتے پرامن احتجاج کر رہے تھے لیکن پنجاب حکومت نے ان پر طاقت کا استعمال کر کے انہیں اشتعال دلایا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق جب تک ان کے مطالبات مان نہیں لیے جاتے اور ان کے برطرف ساتھی ڈاکٹروں کو واپس نہیں بلایا جاتا وہ احتجاج ختم نہیں کرینگے۔

پنجاب میں وزارت صحت اور خصوصی تعلیم کا قلمدان رکھنے والے وزیر خواجہ سلمان رفیق نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کو ناجائز قراد دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ پوسٹ گریجوئیٹ ریزیڈینس کا وقت پورا ہونے کا ہے جس کے تحت تمام ڈاکٹر دیہی مراکز صحت میں کام کرنے کے پابند ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز سینٹرل انڈکشن پالیسی کے اس لیے خلاف ہیں کیونکہ حکومت نے محکمہ صحت پنجاب کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے جوڑ دیا ہے جس کے تحت ایک خود کار رجسٹریشن نظام کے ذریعے انہیں کچھ عرصہ بنیادی مراکز صحت میں کام کرنا پڑتا ہے جبکہ اس پالیسی سے پہلے ڈاکٹرز ملی بھگت سے اپنی مرضی سے قریب کے سٹیشن ڈھونڈ لیتے تھے۔ جس سے چھوٹے علاقوں کے شہریوں کو علاج کی سہولتیں نہیں ملتی تھی۔

خواجہ سلمان رفیق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت ڈاکٹروں کا بہتر سروس سٹرکچر کا مطالبہ سنہ دو ہزار تیرہ میں ہی مان چکی ہے جس کے تحت زیر تربیت ڈاکٹر کی تنخواہ پچیس ہزار سے بڑھا کر ستر ہزار جبکہ میڈیکل آفیسر کی ماہانہ تنخواہ نوے ہزار کر دی گئ ہے۔

خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ محکمہ صحت نے اب تک اکہتر غیر حاضر ڈاکٹروں کو برطرف کردیا ہے جبکہ بیالیس نئے میڈیکل آفیسرز اور ایک سو سولہ انٹرنی بھرتی کیے گئے ہیں۔ وزیر صحت پنجاب کے مطابق صوبہ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز سے کام چلایا جا رہا ہے جبکہ مزید ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے انٹرویو لیے جائیں گے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ہڑتال پر جا چکے ہیں جن میں سے سنہ دو ہزار تیرہ اور سنہ دو ہزار چودہ کی ہڑتالیں قابل ذکر ہیں۔ دو ہزار تیرہ کی وائے ڈی اے کی ہڑتال ایک ماہ سے زائد عرصہ تک جاری رہی جس میں پنجاب حکومت نے فوج کے ڈاکٹروں کو عارضی طور پر لے کر کام چلایا تھا جسے بعد میں لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر ختم کیا گیا تھا۔ سنہ دو ہزار چودہ کی ڈاکٹروں کی ہڑتال کئی دن جاری رہی جس میں بالا آخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے اور ڈاکٹروں کے مطالبات ماننا پڑے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG