رسائی کے لنکس

لاہور کے ڈاکٹروں پر پانی اور دھواں ساتھ ساتھ


وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کے صدر، ڈاکٹر معروف وینس اور تنظیمی عہدیدار ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار اپنے مطالبات کے لیے پنجاب حکومت سے مذاکرات کیے، لیکن انہوں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا

صوبہٴ پنجاب ميں ’ينگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ کے نمائندے ایک بار پھر احتجاج کي راہ پر چل پڑے ہیں۔ ڈاکٹروں نے صوبائی دارالحکومت میں مال روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔

ادھر، حکومت کی جانب سے ان کے دھرنے پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا، تو ڈاکٹروں نے صبر کا پیمانہ ہاتھ سے چھوڑ دیا اور گورنمنٹ آفیسرز ریذیڈینس (جی او آر- ون) میں قائم ایوان وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں روکنا چاہا تو ینگ ڈاکٹرز کے نمائندے پولیس سے الجھ پڑے۔

پولیس نے ڈاکٹروں کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس استعمال کی اور پھر ’واٹر کینن‘ سے ان پر پانی برسایا۔

پنجاب بھر سے ’ينگ ڈاکٹرز‘ سروسز اسپتال ميں اکٹھے ہوئے اور سروسز اسپتال سے جي او آر ون تک ريلي نکالی۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کے صدر، ڈاکٹر معروف وینس اور تنظیمی عہدیدار ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار اپنے مطالبات کے لیے پنجاب حکومت سے مذاکرات کیے، لیکن انہوں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ان کے مطالبات میں سيکرٹري ہيلتھ کي تبديلي، اسپتالوں کے بہتر حفاظتی اقدامات اور لائف انشورنس سمیت دیگر مطالبات ہیِں۔

پنجاب بھر سے اکٹھے ہونے والے ڈاکڑ لاہور کی مال روڈ پر ڈھول کی تھاپ پر تالياں بجاتے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ ڈاکٹروں نے اپنے احتجاج کے دوران اسپتالوں ميں آنے والے مريضوں کو نظرانداز کیے رکھا، جس پر مريض مسيحائي نہ ہونے کا شکوہ کرتے رہے۔

علاج کی غرض سے منڈی بہاالدین سے لاہور آنے والی، سکینہ بی بی نے بتایا کہ وہ اپنا کرایہ لگا کر سفر کرکے لاہور آئی ہیں، لیکن یہاں آنے پر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔

پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ڈاکٹروں کے احتجاج پر دکھ کا اظہار کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر واضح کر دیا تھا کہ وہ ہڑتال نہ کریں، کیونکہ اس کا کوئی جواز نہیں۔ خواجہ سلمان رفیق کے مطابق ان کی حکومت پہلے ہی وائے ڈی اے کے مطالبات مان چکی ہے۔

پولیس نے احتجاج کرنے والے سات ڈاکٹروں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم نے سرکار کی جانب سے ’’اس ناروا سلوک‘‘ پر صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی سمیت دیگر شعبوں میں احتجاجاً کام نہ کرنے کا اعلان کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG