رسائی کے لنکس

logo-print

پشتو فلمی گانوں کا بدلتا انداز، آنکھیں’ڈرون‘ اور دل ’بم‘ ہوگیا


وہیں پشتو فلمی شاعری بھی اس سے ’متاثر‘ ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اب محبوب کی آنکھوں کو کسی دلکش چیز کے بجائے ’ڈرون‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے

کسی زمانے میں فلمیں صرف رومینٹک گانوں کی وجہ سے بھی ہٹ اور سپرہٹ ہو جایا کرتی تھیں۔ لیکن، وقت بدلا تو رومینس اور رومینٹک گانوں کے انداز بھی بدل گئے۔ بالی ووڈ کی تو بات کیا ہی کریں۔ پاکستان میں بننے والی پشتو فلموں کے گانوں نے تو ’حالات حاضرہ‘ سے متاثر ہونے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پشاور پشتو فلموں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ قومی فلم انڈسٹری پر لاکھ زوال آیا ہو لیکن پشتو فلموں کی دنیا آج بھی اپنے میں ہی مگن ہے۔ آج بھی یہاں نئے زمانے کے نئے تقاضوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے ۔۔۔۔مگر اپنے انداز میں۔

گزشتہ ایک عشرے میں ہونے والے پرتشدد واقعات نے جہاں بلا کی ہلچل پیدا کی ہے، وہیں پشتو فلمی شاعری بھی اس سے ’متاثر‘ ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اب محبوب کی آنکھوں کو کسی دلکش چیز کے بجائے ’ڈرون‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

گو کہ ملک کے دیگر حصوں میں اس طرح کی شاعری اور گانوں پر تنقید کی جاتی ہے، لیکن صوبہ خیبر پختونخواہ میں رہنے والے گلوکاروں اور شاعروں کا کہنا ہے کہ عوام ایسی ہی شاعری پسند کرتے ہیں اور ایسے ہی گانے شوق سے دیکھتے ہیں۔

پشتو فلموں کے مشہور ہیرو ارباز خان پر مقبول گلوکار رحیم شاہ کی آواز میں پکچرائز فلم ’شابا تباہی او‘ کا گانا ’آوٴ سب تباہ کردو‘ میں وہ ہیروئن سے فرمائش کرتے نظر آتے ہیں کہ ’آوٴ میری آنکھوں میں دیکھو اور سب کچھ تباہ و برباد کردو۔‘ اور ہیروئن جواب دیتی ہے۔۔ میرا دل ’بم‘ جیسا ہے ۔۔تم آوٴ اور سب تباہ کردو۔‘

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہیرو گانے میں دنیا کو اپنی ہیروئن کی خوبیوں سے آگاہ کراتے ہوئے کہتا ہے۔۔ ’میری لیلیٰ کی آنکھوں میں ’بم‘ ہیں۔ میری لیلیٰ مجھے ان ’بموں‘ سے مارتی ہے۔‘

یہ گانا پشتو فلم ’غدار‘ کا ہے اور اب بھی یوٹیوب اور ڈیلی موشن جیسی ویب سائٹ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ہٹ ویڈیوز میں شامل ہے۔

ایک اور مشہور گانے کا ذکر کرنا یہاں ضروری ہے جو 2014میں ریلیز ہونے والی پشتو فلم ’خوبصورت سرتاج ہوتا ہے‘ میں شامل تھا جس میں ہیروئن ہتھیار اٹھائے مختلف لوگوں کے درمیان رقص کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’میں آنکھوں سے وارکرتی ہوں۔۔۔میری آنکھیں اتنی ہی ہلاکت خیز ہیں جتنا کہ ڈرون۔۔‘

اس طرح کی شاعری اور گانوں کو ناپسند کرنے والے پشتو گلوکار بختیارخٹک نے فرانسیسی خبر ایجنسی سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ’غیرمعیاری اور غیر اخلاقی شاعری کے باوجود معاشرے کا ایک طبقہ ان گانوں اور ویڈیوز کو پسند کرتا ہے اور یہ مارکیٹ میں منافع بخش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ آرٹسٹ آئے دن ہونے والے خون خرابے سے بھی پیسہ کما رہے ہیں۔‘

پشتو مصنف اور شاعر روخان یوسف زئی نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں ۔۔ان گانوں کی زبان نہایت لغو ہوتی ہے اور ویڈیو بیہودہ۔ لیکن عام آدمی ایسے گانے اور ویڈیوز دیکھنا پسند کرتا ہے۔‘

پشتو شاعر اور تاریخ کے پروفیسر اسلم تاثیر آفریدی کے مطابق ’خطے میں ہونے والی افراتفری اور پرتشدد واقعات نے لوگوں کی پسند ناپسند پراثرصرف فلموں اور گانوں کی حد تک ہی نہیں ڈالا، بلکہ اب تو کھیل بھی بدل گئے ہیں۔اب بچوں کو گلی محلوں میں کھیلتا دیکھیں تو ایک گروپ جنگجو بنا ہوتا ہے تو دوسرا پولیس یا رینجرز اہلکار۔‘

XS
SM
MD
LG