رسائی کے لنکس

یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہوگیا


روس کے صدر ولادیمر پوٹن کا کہنا تھا کہ فریقین "مرکزی معاملات پر متفق ہوگئے ہیں" جن میں لڑائی والے علاقے سے بھاری اسلحے کا انخلا بھی شامل ہے۔

یوکرین، روس، جرمنی اور فرانس کے رہنما طویل مذاکرات کے بعد جمعرات کو جنگ بندی کے معاہدے پر متفق ہوگئے جس سے مشرقی یوکرین میں کئی ماہ سے جاری لڑائی کا خاتمہ ممکن بنانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اس معاہدے کا اعلان بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں رات بھر جاری رہنے والی تقریباً 16 گھنٹوں پر محیط بات چیت کے بعد جمعرات کو کیا گیا اور اس جنگ بندی کا اطلاق 15 فروری سے ہوگا۔

روس کے صدر ولادیمر پوٹن کا کہنا تھا کہ فریقین "مرکزی معاملات پر متفق ہوگئے ہیں" جن میں لڑائی والے علاقے سے بھاری اسلحے کا انخلا بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق روس نواز باغیوں نے بھی اس معاہدے کو تسلیم کیا ہے۔

لیکن فریقین کی طرف سے کی گئی الگ الگ پریس کانفرنسز میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا کہ اب بھی کچھ اختلافات موجود ہیں۔

جرمنی کی چانسلر آنگیلا مرخیل کا کہنا تھا کہ " ہم کسی سراب میں نہیں ہیں۔ ابھی بہت زیادہ کچھ کرنا باقی ہے۔"

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو کے مطابق بات چیت کے دوران ماحول میں خاصا تناؤ دیکھا گیا اور ان کے بقول مذاکرات میں یوکرین کے روسی بولنے والے علاقوں کو خودمختاری دینے پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔

"اصل چیز یہ ہے جو ہم نے حاصل کی کہ اتوار کو عام جنگ بندی ہوگی بغیر کسی شرط کے۔"

مشرقی یوکرین میں گزشتہ سال اپریل سے یوکرین کی فورسز اور روس نواز باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور اس میں اب تک 5400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ یوکرین کو باغیوں سے نمٹنے کے لیے مہلک ہتھیاروں کی فراہمی پر فیصلہ منسک میں ہونے والے مذاکرات کے بعد کریں گے۔

XS
SM
MD
LG