رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین میں طاقت کے استعمال کا ’حق‘ ہے: ولادی میر پوٹن


رُوسی صدر نے مغربی ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ یوکرین ان کا ہم نوا بن جائے۔

رُوسی صدر ولا دی میر پوٹن نے کہا ہے کہ رُوس کے پاس یہ ’حق‘ موجود ہے کہ وہ یوکرین میں فوج بھیج سکے۔ مگر رُوسی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ انہیں ’اپنے اس حق کا استعمال نہ کرنا پڑے‘۔

رُوسی صدر پوٹن مشرقی یوکرین میں تین روسی نواز مظاہرین کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ایک رُوسی ٹی وی شو میں گفتگو کر رہے تھے۔

صدر پوٹن نے یوکرینی حکام کو مذاکرات کرنے پر زور دیا اور انہیں تنبیہہ کی کہ وہ اپنے آپ کو مشکل حالات سے دوچار کر رہے ہیں۔

پوٹن نے پہلی مرتبہ اس بات کا بھی اقرار کیا کہ روسی افواج کریمیا میں سرگرم رہی ہیں۔ کریمیا گذشتہ ماہ ہی ریفرنڈم کے ذریعے رُوس کا حصہ بنا تھا۔ اس سے قبل کریمیا کے حوالے سے رُوسی صدر کا موقف رہا تھا کہ کریمیا میں موجود نقاب بردار گن مین وہاں کی مقامی فوج ہے۔

تاہم رُوسی صدر یہ بات ماننے سے ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دئیے کہ مشرقی یوکرین میں بھی رُوسی فوجی سرگرم ِ عمل ہیں۔ صدر پوٹن کے الفاظ، ’یہ بالکل غلط الزام ہے۔ مشرقی یوکرین میں کوئی رُوسی فوجی موجود نہیں ہے‘۔

صدر پوٹن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین کی جانب سے طاقت کا استعمال ’سنجیدہ نوعیت کا جرم‘ ہوگا۔

رُوسی صدر نے مغربی ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ یوکرین ان کا ہم نوا بن جائے۔

صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ مشرقی یوکرین میں لوگ یوکرینی حکام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG