رسائی کے لنکس

logo-print

بشار الاسد کی طرف سے کیمیاوی حملہ ’صریحاً حماقت‘ ہوتی: روسی صدر پیوٹن


دس روز قبل شام کے شہر دمشق میں ہونے والے مبینہ کیمیاوی حملے میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ شامی فوج باغیوں کے خلاف جنگ جیت رہی ہے، صدر اسد کی جانب سے کیمیاوی حملہ کرنا ’صریحاً حماقت‘ ہوتی۔ روسی صدر نے صدر اوباما پر بھی شام پر حملہ نہ کرنے پر زور دیا۔

امریکہ کی جانب سے جمعے کو کہا گیا تھا کہ شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے کیمیاوی حملے کی پاداش میں صدر اسد کو سزا دینے کے لیے وہاں پر ’محدود‘ کارروائی کی تجویز زیر ِغور ہے۔

دس روز قبل شام کے شہر دمشق میں ہونے والے مبینہ کیمیاوی حملے میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

روس کے صدر ولا دی میر پیوٹن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر صدر اوباما کے پاس اس حوالے سے ثبوت موجود ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد کی فوج نے کیمیاوی حملہ کیا تو واشنگٹن کو چاہیئے کہ وہ یہ ثبوت اقوام ِ متحدہ کے تفتیش کاروں اور سیکورٹی کونسل میں پیش کرے۔

صدر پیوٹن کے الفاظ، ’مجھے یقین ہے کہ مبینہ کیمیاوی حملہ اُن ممالک کے لیے محض اشتعال پھیلانے کے سوا کچھ نہیں جو دوسرے ممالک کو شام کے تنازعے میں گھسیٹنا چاہتے ہیں اور جو عالمی منظرنامے میں طاقت اور اثرورسوخ رکھنے والے ممالک بالخصوص امریکہ کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

روسی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر اوباما کو جنہیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا، یاد رکھنا چاہیئے کہ شام پر امریکہ کے ممکنہ حملے کے شام کے شہریوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
XS
SM
MD
LG