رسائی کے لنکس

logo-print

روس: پوٹن بدھ کو پارلیمان سے اہم خطاب کریں گے


صدر ولادی میر پوٹن (فائل فوٹو)

روس کے صدر ولادی میر پوٹن بدھ کو روسی پارلیمان سے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی نیشن' خطاب کریں گے۔

پوٹن گزشتہ سال ایک بار پھر روس کے صدر منتخب ہوئے تھے جس کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے یہ ان کا پہلا خطاب ہوگا۔ بطور صدر 66 سالہ پوٹن کا یہ چوتھا دورِ صدارت ہے جو 2024ء تک جاری رہے گا۔

گزشتہ سال پارلیمان سے اپنے اس سالانہ خطاب میں صدر پوٹن نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی نئی دفاعی ٹیکنالوجیز اور جدید ہتھیاروں کا تعارف کرایا تھا جو ان کے بقول روسی فوج کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔

صدر پوٹن کے اس اعلان پر مغربی ملکوں کے علاوہ خود روس میں بھی کئی حلقوں کو حیرانی ہوئی تھی۔ لیکن دو گھنٹے طویل اس خطاب کے بعد عوام میں ان کی مقبولیت 1999ء میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی تھی۔

صدر پوٹن نے گزشتہ سال پارلیمان سے اپنا سالانہ خطاب صدارتی انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل کیا تھا جس میں انہوں نے روسی عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ خطاب کے موقع پر صدر کو دوبارہ انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا اور اب جب کہ وہ مزید چھ سال کے لیے صدر منتخب ہوچکے ہیں، اپنے اس خطاب میں ان کی زیادہ توجہ داخلی معاملات اور معاشی امور پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔

صدر پوٹن بدھ کا خطاب ایسے وقت کر رہے ہیں جب ان کی عوامی مقبولیت ایک بار پھر روبہ زوال ہے جس کی بڑی وجہ روسی معیشت کو درپیش مشکلات اور اس کےعام لوگوں کی زندگی پر پڑنے والےا ثرات ہیں۔

پوٹن حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک قانون متعارف کرایا تھا جس کے تحت سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی گئی تھی۔ لیکن یہ فیصلہ خاصا غیر مقبول ثابت ہوا ہے اور اس کے بعد سے ٹرمپ حکومت کے عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' ے مطابق اسے روسی حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر پوٹن کی تقریر میں داخلی معاملات اور معاشی مسائل کے علاوہ خارجہ امور بھی سرِ فہرست رہیں گے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پوٹن امریکہ کی جانب سے روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کا معاہدہ ختم کرنے اور شام اور وینزویلا سے متعلق پالیسی پر واشنگٹن ڈی سی کو تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG