رسائی کے لنکس

logo-print

'یورپ میں میزائل نصب کیے تو امریکہ کو نشانہ بنائیں گے'


فائل

پوٹن کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ نے براہ راست اور انتہائی سفاک انداز میں اُس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘‘ اور ’’اُس نے رومانیہ میں بیلسٹک میزائیلوں کا ایک نظام نصب کر رکھا ہے، جس کے ذریعے وہ درمیانے فاصلے کے ٹوماہاک میزائل داغ سکتا ہے‘‘

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے یورپ میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائل نصب کئے تو روس نا صرف متعلقہ یورپی ممالک بلکہ امریکہ کو بھی اپنے انتہائی جدید اور تیز رفتار ہائپر سونک میزائلوں سے نشانہ بنائے گا۔

پوٹن نے بدھ کے روز ماسکو میں اپنے 15 ویں سٹیٹ آف دی نیشن خطاب میں امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روسی میزائلوں کی رینج اور رفتار پر نظر ڈالتے ہوئے ایسے اقدام سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی ذہن میں رکھے۔

پوٹن کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے یورپ میں مذکورہ میزائل نصب کئے تو روس اُن ملکوں کو نشانہ بنانے میں دیر نہیں کرے گا، جہاں یہ میزائل نصب کئے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اُس ملک کو بھی اپنا ہدف بنانے سے نہیں ہچکچائے گا جہاں ان کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہو۔

روسی صدر نے اس امریکی مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ واشنگٹن کی طرف سے امریکہ روس جوہری ہتھیاروں کے معاہدے سے نکل جانے کا فیصلہ روس کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے الزامات محض امریکہ کی طرف سے معاہدہ منسوخ کرنے کے جواز کے طور پر لگائے جا رہے ہیں۔

پوٹن کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ نے براہ راست اور انتہائی سفاک انداز میں اُس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘‘ اور ’’اُس نے رومانیہ میں بیلسٹک میزائیلوں کا ایک نظام نصب کر رکھا ہے، جس کے ذریعے وہ درمیانے فاصلے کے ٹوماہاک میزائل داغ سکتا ہے‘‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے اس سخت بیان سے امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

امریکہ کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اس نظام کا مقصد ایران جیسے ممالک کی طرف سے کسی جارحانہ کارروائی کے خلاف دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم یہ روس کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف دفاع فراہم نہیں کر سکتا۔

پوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ روس یورپ میں نئے میزائلوں کی تنصیب کے بارے میں پہل نہیں کرے گا۔ تاہم، اگر امریکہ نے ایسا کیا تو اس سے روس کیلئے حقیقی خطرہ پیدا ہو جائے گا اور امریکی میزائل دس سے بارہ منٹ میں ماسکو پہنچ سکیں گے۔

اس موقع پر اُنہوں نے کہا کہ امریکی لیڈر ایسا کرتے وقت اُن روسی میزائل پر بھی غور کریں جو روس تیار کر رہا ہے۔

اس حوالے سے پوٹن نے خاص طور پر بغیر عملے کے چلنے والی ایٹمی آبدوز کی آزمائشی جانچ کا ذکر کیا، جو، بقول اُن کے، جلد پانیوں میں چھوڑ دی جائے گی۔

پوٹن نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تخفیف اسلحہ سے متعلق بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ تاہم، وہ بند دروازے پر دستک نہیں دیں گے۔

امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کی رو سے دونوں ملکوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں کم سے کم چھ ماہ تک مزاکرات کریں اور یوں ان اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر یہ اختلافات ان مزاکرات کے باوجود دور نہیں ہوتے تو اس معاہدے کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یکم فروری کو بیان میں کہا تھا کہ روس نے اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے حوالے سے ضروری اقدامات نہیں کئے ہیں اور روس نے مسلسل اُن کروز میزائلوں کی تیاری اور اُن کی جانچ کے اقدامات ختم نہیں کئے ہیں جو 500 سے 5,500 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ چھ برسوں کے دوران 30 سے زیادہ مرتبہ اعلیٰ ترین سطح پر روسی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اس معاہدے کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG