رسائی کے لنکس

logo-print

ولادیمر پوتن مزید چھ سال کے لیے روس کے صدر منتخب


صدر پوتن ابتدائی انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

پوتن گزشتہ 18 سال سے مسلسل بر سرِ اقتدار ہیں اور اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ 2024ء تک روس کے صدر رہ سکیں گے۔ اس وقت ان کی عمر 71 سال ہوگی۔

روس کے صدر ولادیمر پوتن نے اتوار کو ہونے والا صدارتی انتخاب جیت لیا ہے جس کے بعد وہ مزید چھ سال تک روس کے صدر رہیں گے۔

روس کے مرکزی انتخابی کمیشن نے اتوار کی شب اعلان کیا کہ لگ بھگ 70 فی صد ووٹ گنے جاچکے ہیں جن میں صدر پوتن کو 9ء75 فی صد ووٹوں کے ساتھ فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

انتخابی کمیشن کے اعلان کے بعد ماسکو کی ریڈ اسکوائر پر جمع اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ انتخابات میں فتح ان کی ان کامیابیوں پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے جو ان کے بقول انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں اپنے دورِ اقتدار میں حاصل کیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی قوم کو اپنا اتحاد برقرار رکھنا ہوگا تاکہ ان کے بقول روس کے عظیم مستقبل کا خواب پورا کیا جاسکے۔

پوتن گزشتہ 18 سال سے مسلسل بر سرِ اقتدار ہیں اور اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ 2024ء تک روس کے صدر رہ سکیں گے۔ اس وقت ان کی عمر 71 سال ہوگی۔

ایک پولنگ اسٹیشن پر انتخابی عملے کی رکن امیدواران کا پوسٹر لگا رہی ہیں۔
ایک پولنگ اسٹیشن پر انتخابی عملے کی رکن امیدواران کا پوسٹر لگا رہی ہیں۔

اس سے قبل صرف سابق سوویت آمر جوزف اسٹالن ہی اتنا طویل عرصہ روس پر حکمران رہے ہیں۔

انتخابات میں پوتن کے علاوہ دیگر سات امیدواران بھی میدان میں تھے لیکن ریاستی مشینری اور سرکاری ذرائع ابلاغ کی تمام تر حمایت پوتن کو حاصل تھی جس کے باعث ان کی کامیابی پر کسی کو شک نہیں تھا۔

انتخابی کمیشن نے حزبِ اختلاف کے ایک مرکزی امیدوار اور پوتن کے کڑے مخالف الیگزی نیولنی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا جس پر مغربی ممالک اور آزاد مبصرین نے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھائے تھے۔

انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق پوتن کے قریب ترین حریف اور کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار پاول گروڈینن نے لگ بھگ 13 فی صد جب کہ قوم پرست امیدوار ولادیمر زیرینووسکی نے چھ فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح کم رہے گی لیکن ابتدائی اندازوں کے مطابق ووٹنگ کی شرح 60 فی صد سے زائد رہی ہے۔

انتخابات کے لیے رقبے کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس کے 85 مختلف خطوں میں ایک لاکھ کے لگ بھگ پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔

انتخابی کمیشن کے مطابق رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد دس کروڑ 90 لاکھ کے قریب تھی۔ علاوہ ازیں 145 مختلف ملکوں میں مقیم روسی باشندوں نے بھی ووٹ کا حق استعمال کیا۔

ایک پولنگ اسٹیشن میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
ایک پولنگ اسٹیشن میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

صدر پوتن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی فتح مغرب کے خلاف صدر کے سخت مؤقف پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔

صدر پوتن کو صدارتی انتخابات میں یہ کامیابی ایسے وقت ملی ہے جب ان کی قیادت میں روس کے مغربی ملکوں بشمول امریکہ کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں جب کہ بیرونِ ملک روس کی فوجی او سفارتی جارحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2000 سے مسلسل کبھی صدر اور کبھی وزیرِ اعظم کی حیثیت سے برسرِ اقتدار 65 سالہ پوتن کو ان کے حامی روس کے گم گشتہ ماضی کو واپس لانے اور بحیثیت عالمی طاقت اس کے کھوئے ہوئے مقام کو بحال کرنے کا کریڈٹ دیتے ہیں۔

لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پوتن کی زیرِ قیادت روس میں ایک بدعنوان اور آمر حکومت قائم ہے جو نہ صرف اندرونِ ملک اپنے مخالفین کو سختی سے کچل رہی ہے بلکہ بیرونِ ملک بھی مسلسل جارحیت کی مرتکب ہورہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG