رسائی کے لنکس

قندیل بلوچ قتل کیس، مفتی عبدالقوی عدالت میں پیش


قندیل بلوچ نے جون 2016ء میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی سے اپنی ایک ملاقات کے دوران بنائی گئی وڈیو اور تصاویر کو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر جاری کر دیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی ایک ذیلی عدالت میں زیر سماعت قندیل بلوچ کے قتل سے متعلق مقدمے میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی منگل کو پیش ہوئے۔

سوشل میڈیا پر اپنی بے باک وڈیوز اور ذرائع ابلاغ میں اپنے متنازع بیانات کے باعث شہرت پانے والی قندیل بلوچ کو گزشتہ سال جولائی میں ملتان میں ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے زیر حراست بھائی محمد وسیم نے اپنے ابتدائی بیان میں قندیل کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

قتل سے قبل قندیل بلوچ نے جون 2016ء میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی سے اپنی ایک ملاقات کے دوران بنائی گئی وڈیو اور تصاویر کو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر جاری کر دیا تھا۔

جس کی وجہ سے کئی دنوں تک یہ میڈیا پر موضوع بحث بنا رہا اور مفتی عبدالقوی کو بھی خفت اٹھانی پڑی۔

مفتی عبدالقوی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن جب کہ وہ سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے مذہبی ونگ میں بھی شامل تھے۔

تاہم قندیل بلوچ کے ساتھ ان کی وڈیوز اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف نے ان کی رکنیت ختم کر دی اور رویت ہلال کمیٹی سے بھی انہیں سبکدوش ہونا پڑا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قندیل بلوچ کے والد نے اپنی بیٹی کے قتل کی ’ایف آئی آر‘ میں مفتی عبدالقوی کو بھی بطور ملزم نامزد کیا تھا، لیکن مفتی عبدالقوی اپنے کئی بیانات میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اُنھوں نے قندیل کو قتل کرنے کے بارے میں کبھی بھی ملزمان کو نہیں اکسایا۔

مفتی عبدالقوی منگل کو سیشن جج چوہدری امیر احمد خان کی عدالت میں پیش ہوئے، واضح رہے کہ اُنھوں نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔

اپنی پیشی کے بعد مفتی عبدالقوی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اُسے قبول کیا جائے گا۔

منگل کو عدالتی کارروائی کے آغاز پر مفتی عبدالقوی کے وکیل نے مقدمے کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی تاکہ وہ مقدمے کی تیاری کر سکیں۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی۔

جب کہ عدالت نے قندیل بلوچ کے بھائی وسیم جب کہ ایک اور ملزم حق نواز کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

قندیل بلوچ کے قتل کی تحقیقات کے دوران پولیس نے مفتی عبدالقوی کو ایک سوالنامہ بھی بجھوایا تھا، جس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں اس بارے میں علم نہیں کہ قندیل کو کس نے قتل کیا اور اس میں کتنے افراد ملوث تھے۔

واضح رہے کہ قندیل بلوچ کے والد اپنی بیٹی کے قتل کے مقدمے میں مدعی ہیں تاہم حکومت کی طرف سے اس مقدمے میں ایسی شق بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر مدعی چاہے بھی تو اپنے طور پر ملزمان سے صلح اور اُنھیں معاف نہیں کر سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG