رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت کا اعتراض، امریکہ-طالبان مذاکرات تعطل کا شکار


امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے افغان صدر حامد کرزئی کے تحفظات دور کرنے کے لیے منگل اور بدھ کو ان سے دو بار ٹیلی فون پر بات کی۔

امریکہ کے اعلٰی سفارت کار طالبان سے مذاکرات کے بارے میں افغان حکومت کی تحفظات دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ بات چیت کے عمل کا آغاز ہو سکے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین پاکسی نے کہا ہے کہ وزیرخارجہ جان کیری نے افغان صدر حامد کرزئی کے تحفظات دور کرنے کے لیے منگل اور بدھ کو ان سے دو بار بات کی۔

قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ابتدائی بات چیت جمعرات کو متوقع تھی لیکن افغان حکومت کے اعتراضات کے بعد اب یہ واضح نہیں کہ فریقین کے مذاکرات کب شروع ہوں گے۔

افغان صدر حامد کرزئی دوحا میں طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات پر نالاں تھے اور ان کی حکومت کے بعض عہدیداروں نے کہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے افغان حکومت کے کردار کو دھچکا لگے گا۔

ایک سینئر افغان عہدیدار نے گزشتہ روز 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا کہ افغان حکومت طالبان کو دیے جانے والے سرکاری پروٹوکول سے ناخوش ہے۔

افغان حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی نگران 'اعلیٰ امن کونسل' نے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ جب تک مذاکراتی عمل کی سربراہی افغانستان نہیں کرتا، کونسل کے ارکان قطر میں ہونے والی بات چیت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

افغان سفارت کاروں نے قطر میں کھولے جانے والے طالبان کے دفتر کے نام پر بھی اعتراض کیا تھا۔ افغان سفارت کاروں کے بقول دفتر کو دیے جانے والے 'سیاسی دفتر - اماراتِ اسلامیہ افغانستان' کے نام سے سفارت خانے کا تاثر ابھرتا ہے۔

خیال رہے کہ افغان طالبان ستمبر 2001ء میں امریکہ کے حملے سے قبل افغانستان پر اپنی حکومت کو 'اماراتِ اسلامیہ' کہا کرتے تھے اور اس کے بعد سے اپنی مزاحمتی تحریک کے لیے بھی یہی نام استعمال کر رہے ہیں۔

افغان حکومت کے اعتراض کے بعد دوحا میں طالبان کے دفتر پر لہرانے والا پرچم جمعرات کو سرنگوں کردیا گیا جب کہ عمارت کے باہر نصب 'سیاسی دفتر – اماراتِ اسلامیہ افغانستان' کی تختی بھی اتار لی گئی ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی بدھ کی شب اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ دوحا میں کھلنے والے طالبان کے دفتر کو "دوحا میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر" کا نام دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت نے دوحا میں متوقع مذاکراتی عمل پر اختلافات کے بعد امریکہ سے مجوزہ سیکیورٹی معاہدے پر مذاکرات بھی معطل کر دیے تھے۔ ان مذاکرات میں 2014ء کے اختتام کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور ان کے کردار کا تعین ہونا تھا۔
XS
SM
MD
LG