رسائی کے لنکس

logo-print

قطر: پانچ افغان طالبان کی نگرانی اور سفر پر پابندی میں توسیع


امریکی عہدیدار نے کہا کہ پانچ طالبان کے خلاف پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک سفارتی سطح پر ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ قطر نے ایک امریکی فوجی کے بدلے میں گواتنامو بے میں واقع امریکی حراستی مرکز سے رہا کیے گئے پانچ سینیئر افغان طالبان پر سفری پابندی اور نگرانی میں عارضی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ پانچ طالبان کے خلاف پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک سفارتی سطح پر ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ گزشتہ سال مئی میں عائد کی گئی ان پابندیوں کی میعاد پیر ’یکم جون‘ کو ختم ہونے والی تھی۔

امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر جان برینن نے اتوار کو ٹیلی وژن پر کہا کہ یہ پانچ افراد افغانستان کے باشندے ہیں اور وہ خود اس معاملے پر قطری حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ امریکی سلامتی کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

قطر نے گزشتہ برس امریکی فوج کے سارجنٹ بو برگڈال کی رہائی کے بدلے ایک معاہدے کے تحت ان پانچ طالبان کو اپنے ملک میں رکھنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

سارجنٹ برگڈال کو طالبان نے اس وقت پکڑ لیا تھا جب وہ پانچ برس قبل افغانستان میں اپنی چوکی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان پر اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایک امریکی قانون ساز کے مطابق ان پانچ طالبان میں سے کم از کم ایک کا گزشتہ سال قطر میں رہائش کے دوران مبینہ طور پر القاعدہ سے وابستہ حقانی نیٹ ورک کے ارکان سے رابطہ ہوا تھا۔

ان پانچ میں سے چار اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں جس کے تحت ان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان کے سفر پر پابندی عائد ہے۔

XS
SM
MD
LG