رسائی کے لنکس

قلعہ سیف اللہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی


فائل فوٹو

ستارکاکڑ

بلوچستان کے سرحدی ضلع میں ایک مذہبی جماعت کے راہنما کے گھر میں زوردار دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد7 ہوگئی ہے ۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے ۔

قلعہ سیف اللہ پولیس تھانے کے انسپکٹر محمد یوسف کے بقول جمعرات کو رات زور دار دھماکے کے بعد ملبے کا ڈھیر بننے والے مکان کا کچھ ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ رات بھر جاری رہنے والی امدادی سر گرمیوں کے دوران تین افراد کی نعشیں نکالی گئیں، جبکہ ایک بچہ اور دو زخمی خواتین کو بھی مقامی اسپتال میں منتقل کردیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملبہ ہٹانے والوں کو اب تک مٹی تلے دبے ہوئے پانچ افراد کے اعضا ءملے ہیں جن کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے کو ئٹہ اور وہاں سے لاهور بھیجا جائے گا۔

دھماکے سے گزشتہ رات کو موقع پر دم توڑنے والے مو لانا شیخ عبدل کے بھتیجے خیر محمد نے جمعے کو وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ دھماکے میں سہ پہر تک کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شیخ عبدل اور اُس چار بیٹے، جن میں مُلا حبیب اللہ بھی ہیں ، ایک پوتا اور ایک بہو شامل تھے۔

’ رات کو یہ لوگ اپنے ٹیوب ویل کے قریب بیٹھ کر چائے پی رہے تھے اسی اثنا ءمیں ایک زوردار دھماکہ سُنا گیا اور اس کے بعد ایک بڑا شعله بلند ہوا، جس کے بعد اُن کا پورا گھر کر منہدم ہوگیا۔ علاقے میں گرد وغبار چھاگئی۔ دھماکے سے تمام قریبی گھروں اور دو کلو کے فاصلے تک دور کے گھروں کی کھڑ کیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ ابھی تک ہمیں پورا ملبہ ہٹانے کی اجازت نہیں دی جارہی کیونکہ یہاں مختلف ٹیمیں آئی ہوئی ہیں اور اس دھماکے کے بارے میں معلومات کر رہی ہیں۔ مُلا حبیب اللہ خود بھی طالب تھے اور اُن کا تعلق کالعدم تحر یک طالبان پاکستان سے تھا۔ علاقے میں اُن کا اُٹھنا بیٹھنا بھی اسی تحر یک کے ساتھیوں کے ساتھ ہوتا تھا ۔ ابھی تک ہمیں افراد کی میتیں حوالے کی گئی ہیں جن کا ہم نمازہ جنازہ پڑھیں گے۔ جبکہ دیگر چار افراد کے جسم کے حصے ملے ہیں اُن کا غائبانہ نماز جنازہ اداکر ینگے ۔،

بم ڈسپوزل کے ڈائریکٹر محمد اسلم کی طرف سے میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ رات کو دس بجے کے بعد تقریبا ایک ہزار سے 1200 کلو بارود ی مواد میں دھماکہ ہوا تھا جس سے اب تک سات افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں ۔

مولاناحبیب اللہ کا تعلق ماضی میں جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے ساتھ رہا ہے، جو افغان طالبان کی سب سے زیادہ حمایت کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعت سمجھتی جاتی ہے۔

دھماکے کی جگہ افغان سرحد سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ قلعہ سیف اللہ سے افغان سرحد کی طرف غیر قانونی کئی راستے جاتے ہیں۔ تاہم، قانونی سرحد قمر دین کاریز کے نام سے مشہور ہے، جہاں تھوڑی بہت کاروباری سرگرمیاں اور لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔

اس ضلع کے دوسرے علاقے گوال اسمائیل زئی میں اس سے پہلے کالعدم ٹی ٹی پی کے بعض راہنماؤں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی تھی اور بعض کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا جہاں صرف ایک روز قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مرکزی شہر لاهور میں پولیس کی ایک چوکی کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں پانچ پولیس اہل کاروں سمیت دس افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ لاهور دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کرلی ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم گروپ تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ اب صرف بچے کھچے عناصر بعض اوقات سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن ان کا بھی جلد خاتمہ کر دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG