رسائی کے لنکس

logo-print

قرآن نذرِ آتش کرنے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکیں گے: پیٹریاس


افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈرنے کہا ہے کہ ایک امریکی چرچ کی طرف سے 11ستمبر کو قرآن کونذرِ آتش کرنے کا منصوبہ امریکی فوجیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دے گا اور اس ملک میں لڑائی کی مجموعی کارروائیوں کو دھچکہ پہنچ سکتا ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے منگل کو خبردار کیا کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کی مجوزہ آتشزدگی ایساعمل ہوگا جسے طالبان اپنے پروپیگنڈہ کے مقاصدکے لیے استعمال کریں گے۔ اِس سے نہ صرف افغانستان بلکہ ساری مسلم دنیا میں امریکہ مخالف جذبات بھڑک اُٹھیں گے ۔

‘دِی ڈوو ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر’ نامی امریکہ کی جنوب مشرقی ریاست فلوریڈا سےمیں ایونجیلیکل فرقے کے ایک چھوٹی سے چرچ نے کہا ہے کہ اُس نے11ستمبر کے دہشت گردحملوں کی برسی کے موقع پر قرآن کے نسخے نذرِ آتش کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ حکومت نے چرچ کو آگ لگانے کے عمل کی اجازت سے انکار کیا ہے لیکن اُس نے وعدہ کیاہے کہ وہ ہر صورت ایسا کرکے رہے گی۔

کابل میں امریکی سفارت خانے نےبھی چرچ کی ایسی تجویز کی مذمت کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ امریکی حکومت اسلام کے خلاف اِس قسم کی بے حرمتی کی کسی طور اجازت نہیں دے گی۔

ایمبسی کا کہنا ہے کہ اُسے مذہبی اور نسلی گروہوں کے ارکان کو تکلیف پہنچانے کی دانستہ کوشش پر سخت تشویش ہے۔

مجوزہ منصوبے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دارلحکومت کابل میں سینکڑوں افغانی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

ہفتے کو جکارتا میں امریکی سفارت خانے کے باہر بھی اِسی طرح کا ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

XS
SM
MD
LG