رسائی کے لنکس

logo-print

ووہان کی لیبارٹری سازشی نظریات کا موضوع کیوں بنی؟


عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ارکان ووہان میں وائرالوجی لیب کے دورے پر آ رہے ہیں۔ 3 فروری 2021

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی عالمی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے بدھ کے روز چین کے شہر وہان میں اس وائرولوجی لیبارٹری یا ریسرچ سینٹر کا دورہ کیا۔ جس کے بارے میں قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ کرونا وائرس کا جنم یہیں ہوا۔ وائرولوجی سے مراد وائرس کا مطالعہ اور ان سے پیدا شدہ امراض کے بارے میں بحث کرنے والی طب کا شعبہ ہے۔

ٹیم نے تقریبا ساڑھے تین گھنٹے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں گزارے۔ جب ایک رپورٹر نے ٹیم کے ارکان سے پوچھا کہ کیا انہیں کچھ ملا، تو جواب میں کار میں بیٹھی ہوئی ایک ماہر کا کہنا تھا کہ بہت دلچسپ، بہت سے سوالات، اور یہ کہتے ہی ان کی کار فراٹے بھرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہو گئی۔

ووہان کی وائرولوجی لیبارٹری کئی سازشی نظریات کا موضوع بنی ہوئی ہے کہ کرونا وائرس یہیں سے باہر آیا اور سب سے پہلے کرونا وائرس کی وبا اسی شہر سے پھوٹی اور پورے شہر میں پھیل گئی۔

تاہم زیادہ تر سائنس دان اس نظریے کو رد کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک کرونا وائرس کو باہر سے لایا گیا اور اس کی جانچ کی گئی کہ کہیں یہ انسانوں کیلئےخطرناک تو نہیں ہو گا، اور انہی تجربات کے دوران یہ لیبارٹری سے باہر آیا اور پھیل گیا۔

سائنس دانوں نے لیبارٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے تمام نمونوں پر کی گئی تحقیقات کی تفصیلات جاری کرے، تا کہ اب تک سامنے آئے نظریات کی جانچ ہو سکے۔

عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ارکان ووہان میں جانوروں کے علاج کے ایک مرکز کا دورہ کر رہے ہیں۔ 3 فروری 2021
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ارکان ووہان میں جانوروں کے علاج کے ایک مرکز کا دورہ کر رہے ہیں۔ 3 فروری 2021

یہ ٹیم کرونا وائرس پر تحقیقات کے سلسلے میں ووہان کا دورہ کر رہی ہے، کیونکہ اسی شہر میں سب سے پہلے اس سے متاثرہ مریض سامنے آیا تھا۔ اس وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 22 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ ، ٹیم کے دورے کا چھٹا روز تھا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے عہدیدار، بشمول دورہ کرنے والی ٹیم نے محتاط توقعات رکھی ہیں، اور وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو نے والی تھیوری کے بارے میں بھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے امکانات پر کوئی جواب دینے سے اجتناب برتا ہے۔

تاہم منگل کے روز، برطانیہ کے سکائی نیوز سے ایک انٹرویو میں وبائی امراض کے ماہر پیٹر ڈزاک کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شامل ماہرین نے، پہلے سامنے نہ آنے والے ڈیٹا کا مطالعہ کیا ہے، اور اب وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وائرس کہاں سے آیا۔

اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم اپنے دورے کے اختتام پر ایک رپورٹ مرتب کرے گی، جس میں ٹیم کی تحقیقات کے حوالے سے چند اشارے موجود ہونگے ، اور یہ کہ زیادہ امکانی منظر نامے کیا ہو سکتے ہیں، اور چند سفارشات بھی ہونگی، اور یہ بھی نشان دہی کی جائے گی کہ آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں کے دوران کیا کیا جانا چاہئیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG