رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: فائرنگ اور بم دھماکے سے کم ازکم 11 افراد ہلاک


شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں پر نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اندھا دھند فائرنگ کی جب وہ ایک بس پر سوار ہو کر واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جمعرات کو تشدد کے دو مختلف واقعات میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔

کوئٹہ میں پولیس حکام کے مطابق جمعرات کی صبح نواحی علاقے ہزار گنجی میں موٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے ایک وین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے شیعہ ہزارہ برداری کے آٹھ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

واقعے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز اعزاز گورائیہ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے علاقوں مری آباد، علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں رہائش پذیر شیعہ ہزارہ برادری کے لوگ روزانہ سبزی اور پھل خریدنے کے پولیس کی نگرانی میں جاتے ہیں۔

لیکن ان کے بقول جمعرات کو یہ لوگ پولیس کو اطلاع دیے بغیر ہی چلے گئے اور جب یہ واپس آرہے تھے تو دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ان کی بس میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی۔

پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ شواہد جمع کر کے تفتیش اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری پر اس سے پہلے بھی ہلاکت خیز حملے کیے جاتے رہے ہیں جس میں فائرنگ کے علاوہ بم حملے بھی شامل ہیں۔

اس تازہ واقعے کے خلاف شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ہزارہ ٹاؤن کے قریبی علاقے بروری ٹاؤن مں سڑک بلاک کر دی اور وہاں دھرنا دیا۔ ہزارہ ڈیموکریٹ پارٹی نے تین روزہ سوگ اور جمعہ کو کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد کوئٹہ ہی میں قمبرانی روڈ کے بشیر چوک نامی علاقے میں ایک بم دھماکے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق بارودی مواد یہاں کھڑی ایک موٹرسائیکل میں نصب تھا جس میں اس وقت ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا جب یہاں سے فرنٹیئر کور کی گاڑیاں گزر رہی تھیں۔

معمول کی گشت پر معمور فرنٹیئر کور کے اہلکار اس دھماکے میں محفوظ رہے۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایک بار پھر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جب کہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے امن و امان کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی بدولت ماضی کی نسبت حالات میں قابل ذکر حد تک بہتری آئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس آف پاکستان کے صوبائی عہدیدار طاہر حسین نے گزشتہ ہفتے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ ان کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں امن و امان کی ابتر صورتحال کی وجہ سے یہاں سے شیعہ برادری کے لگ بھگ دو لاکھ جب کہ دیگر صوبوں سے آکرآباد ہونے والے ایک لاکھ افراد ملک کے دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG