رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ میں حالیہ ہلاکتوں کے سوگ میں جزوی ہڑتال


کوئٹہ میں حالیہ ہلاکتوں کے سوگ میں جزوی ہڑتال

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تشدد کے واقعات کے خلاف اتوار کو جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جب کہ پولیس نے زبردستی دُکانیں بند کرانے کے الزام میں 12مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

ایک روز قبل اسپینی روڈ پر ہلاک کئے جانے والے ہزارہ برادری کے 11 افراد کی ہلاکت کی سوگ میں اتوار کو کوئٹہ میں جزوی ہڑتال رہی اور شہرکی بڑی مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

ہڑتال کی اپیل ہزارہ ڈیموکر ٹیک پارٹی کی جانب سے کی گئی تھی۔ پارٹی کے کارکن صبح کے وقت باچاخان چوک پراحتجاج کے لیے جمع ہوئے اور بعد میں مظاہرین نے دُکانیں زبردستی بند کرانے کی کوشش کی جس کی حوصلہ شکنی کے لیے پولیس نے ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

آئی جی بلوچستان راؤ محمد ہاشم کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور اردگرد کے علاقوں میں امن اوامان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے پولیس نے ہفتہ سے ایک آپریشن شروع کیا ہے جس میں اب تک لگ بھگ دو سو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔” آپریشن صرف اور صرف ملزموں کے خلاف کیا جا رہا ہے تاکہ اُنھیں کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ ایسے اقدامات بھی لیے جارہے ہیں جن کی بدولت مستقبل میں تشدد کے واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی۔“

دریں اثنا پولیس نے بتایا ہے کہ اتوار کو صوے کے دوردراز صنعتی شہر حب کہ قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ایک ہوٹل میں ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکا اُس وقت کیا گیا جب ہوٹل میں بڑی تعداد میں مسافر وہاں کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔ زخمیوں کو فوری طورپر مقامی ہسپتال طبی امداد کی فراہمی کے لیے منتقل کیا گیا۔

رواں مہینے کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم 75 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر واقعات کی ذمہ داری بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کے لیے اُن کے بقول کرائے کے قاتل خیبر پختون خواہ سے صوبے میں داخل ہو گئے ہیں جو بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG