رسائی کے لنکس

کو ئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے دو واقعات میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق ہفتہ کی دوپہر کو ئٹہ شہر کے مرکزی کاروباری علاقے شارع جمال الدین افغانی روڈ پر الیکٹرونکس کی ایک دُکان پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوعپر موجود عینی شاہدین سے واقعہ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

گزشتہ روز (جمعہ) کو ئٹہ کے علاقے طوغی روڈ پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک کردیا تھا۔ پولیس حکام کے بقول مدینہ مسجد کے پیش امام میر محمد کا چھوٹا بھائی خیربخش اپنے گھر کے ساتھ ایک دُکان پر تھا کہ اسی اثناء میں دو نا معلوم افراد وہاں پر آئے اور خیر بخش پر اندھا دُھند فائرنگ کی جس سے ہلاک ہوگیا۔ حملہ آور واردات کے بعد مو ٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔

ان واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔

پولیس حکام کے نے دو واقعات کو فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے اقدام کئے جا رہے ہیں ۔

صوبائی دارالحکومت کو ئٹہ میں رواں ماہ کے دوران فرقہ وارانہ دہشت گردی کی یہ چوتھی واردات ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ ہفتے شہر کے مغربی بائی پاس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد ، جبکہ اس سے پہلے شہر کے دو مختلف علاقوں میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے اسی برادری کے دو افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

کو ئٹہ اور صوبے کے دیگرعلا قوں میں شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جاری ہیں۔

حکومت کی طرف سے قائم کر دہ نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 16 سالوں کے دوران ہزارہ قبیلے کے افراد پر ہونے والے حملوں میں 525 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ شیعہ ہزارہ برادری کی دو آبادیوں کی سیکورٹی کے لئے فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکاروں کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG