رسائی کے لنکس

logo-print

ریڈیو پاکستان ہیڈکوارٹرز کی عمارت لیز پر دینے کے فیصلے پر احتجاج


فائل فوٹو

ریڈیو پاکستان کی عمارت کو لیز پر دینے کے حکومتی فیصلہ کے خلاف ملازمین سڑکوں پر نکل آئے۔ اسلام آباد میں ریڈیو ہیڈکوارٹر کے باہر ملازمین نے روڈ بلاک کردی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کا معاشی قتل بند کیا جائے اور فیصلے کو فوری پور پر واپس لیا جائے۔ ملازمین جن میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل تھیں شاہراہ دستور پر دھرنا دے کر بیٹھ گئی۔ اس دوران ملازمین نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی بھی کی۔

اس دوران پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مریم اورنگزیب بھی پہنچ گئیں۔ انہوں نے ملازمین کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کیا اور کہا کہ حکومت پاکستان کباڑیے کی دکان نہیں۔ موجودہ حکومت ایسے حکومت چلا رہی ہے جیسے کنٹینر سے حکومت چلائی جارہی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے ملازمین نے اس حوالے سے کہا کہ ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ لیکن ہم کسی صورت اس عمارت کو لیز پر نہیں دینے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو نکالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس حوالے سے وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے ریڈیو پاکستان ایمپلائز یونین کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت محنت کشوں اور سرکاری ملازمین کے مسائل سے آگاہ ہے۔ اس عمارت کو لیز پر دینے کا مقصد ملازمین کی بہبود اور اس کے مسائل کا حل کرناہے۔ لیز پر دینے سے قبل ملازمین کی آرا کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

ملاقات کے بعد ملازمین نے اجتجاج ختم کردیا۔

دوسری جانب پانچ سابق سیکریٹری اطلاعات نے بھی حکومتی فیصلے کو غلط قرار دے دیا ۔ پانچ سابق سیکریٹریز اطلاعات انور محمود، خواجہ اعجاز سرور ، سلیم گل شیخ ، اشفاق گوندل اور منصورسہیل نے اپنے مشترکہ بیان میں حکومتی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان اسٹریٹیجک اور تاریخی اہمیت کا حامل ادارہ ہے۔ حکومت کو اپنی فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی ریڈیو ٹرانسمیٹرز کمزور پڑے تو سرحد پار کی نشریات غالب آ گئی تھی۔ حکومتی فیصلہ سازوں کو ریڈیو سے متعلق جلد بازی نہیں کرنی چاہیئے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG