رسائی کے لنکس

مذہبی ہم آہنگی کے لیے پاکستانی ڈاکٹر جوڑے کا ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا عطیہ


پاکستانی نژاد ڈاکٹر رافت اور زورین انصاری۔ فائل فوٹو

یونیورسٹی اس فنڈ سے رافت اینڈ زورین انصاری انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل انگیجمنٹ ود ریلیجن قائم کرے گی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ مذاہب کے بارے اپنی تحقیق اور معلومات کے فروغ کے لیے کام کرے گا اور یہ جائزہ لے گا کہ عقائد کے عملی پہلو کس طرح عالمی واقعات کو متاثر کرتے ہیں۔

امریکہ میں آباد ایک پاکستانی ڈاکٹر جوڑے نے ریاست انڈیانا میں قائم نوٹرڈیم کیتھولک یونیورسٹی کو مذہبی ہم آہنگی کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا ہے جس سے یونیورسٹی میں ان کے نام سے ایک چیئر قائم کی جائے گی۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رافت اور زورین انصاری تقربیاً چار عشرے قبل امریکہ میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ فلاح و بہبود اور خیراتی سرگرمیوں میں اپنی گہری دلچسپی کی وجہ سے انہیں ساؤتھ بینڈ کے علاقے میں احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سونیا کی ذہنی معذوری کے بعد انہوں نےذہنی معذور بچوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے سے متعلق امدادی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دینی شروع کر دی اور ان سرگرمیوں پر اب تک وہ دس لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم اور اپنے ہزاروں گھنٹے صرف کر چکے ہیں۔

زورین انصاری نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ہم یہاں تارکین وطن کی حیثیت سے آئے تھے۔ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ۔ ہم امریکہ کو کچھ لوٹانا چاہتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ہمیں مساوات اور احترام کےفروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔

جمعے کے روز ساؤتھ بینڈ میں قائم ایک کیتھولک یونیورسٹی نوٹر ڈیم میں مذاہب کی بہتر سمجھ بوجھ کے مطالعے اور تحقیق کے لیے انہوں نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر عطیے کا اعلان کیا۔

یونیورسٹی اس فنڈ سے رافت اینڈ زورین انصاری انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل انگیجمنٹ ود ریلیجن قائم کرے گی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ مذاہب کے بارے اپنی تحقیق اور معلومات کے فروغ کے لیے کام کرے گا اور یہ جائزہ لے گا کہ عقائد کے عملی پہلو کس طرح عالمی واقعات کو متاثر کرتے ہیں۔

نوٹرڈیم یونیورسٹی کے صدر جان جینکنز نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ انصاری فیملی کی جانب سے بہت بڑا تحفہ ہے اورایک مسلمان فیملی کی جانب سے اتنی خطیر رقم کا تحفہ ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہب کی ہماری دنیا میں بہت اہمیت ہے۔ اس کا منفی اثر بھی ہوسکتا ہے لیکن ہمیں اس بارے میں مطالعہ کرنا چاہیے کہ وہ کون سے طریقے ہیں کہ مذہب انسانی ترقی اور امن کے فروغ کی ایک قوت بن سکے۔

رافت کے اپنے انٹرویو میں نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ہم کئی برسوں سے اس پہلو پر سوچ رہے تھے کہ زیادہ تر مسائل مذاہب کے درمیان غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔یہ مذہبی ہم آہنگی کے لیے عطیہ دینے کا مناسب ترین وقت تھا کیونکہ اس وقت دنیا میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG