رسائی کے لنکس

logo-print

راحت فتح کی نئے سال پر پہلی پرفارمنس، بھارتی شائقین دل ہار گئے


چند گھنٹوں کے لئے ہی سہی، دیکھنے والوں کو یوں لگا جیسے دونوں ملک ایک ہی دھاگے میں بندھ گئے ہوں۔ محبتوں، بھائی چارے اور اپنائیت کے دھاگوں میں میوزک کے ست رنگی سروں میں۔۔

پاکستانی قوالی کی آن، بان اور شان سمجھے جانے والے راحت فتح علی نے حیدرآبادیوں کے دل لوٹ لئے۔ ہم بات کر رہے ہیں بھارتی شہر حیدرآباد کی جہاں نیوائیر نائٹ سجی اور اس میں راحت فتح علی نے اس کمال کی پرفارمنس دی کہ سرحدوں کا فرق مٹ گیا۔

چند گھنٹوں کے لئے ہی سہی، دیکھنے والوں کو یوں لگا جیسے دونوں ملک ایک ہی دھاگے میں بندھ گئے ہوں۔ محبتوں، بھائی چارے اور اپنائیت کے دھاگوں میں۔۔ میوزک کے ست رنگی سروں میں۔۔۔

دسمبر کی آخری اور جنوری کی پہلی سرد رات پرفارمنس کے لئے راحت فتح علی کو اپنی ٹیم کے ہمراہ ابوظہبی سے ایمریٹس ائیرلائن کے ذریعے حیدرآباد پہنچنا تھا اور پروگرام کے تحت وہ پہنچے بھی مگر وہاں ائیرپورٹ حکام نے انہیں اس قانون سے واقف کرایا کہ پاکستانی شہریوں کو بھارت کے چاربین الاقوامی ائرپورٹس یعنی ممبئی، دہلی، چنائی اور کولکتہ میں ہی اترنے کی اجازت ہے یا پھر وہ اٹاری کے ذریعے بھارت میں داخل ہوسکتے ہیں۔

راحت فتح علی خان کے منیجر سلمان احمد نے وائس آف امریکہ کو اس حوالے سے مزید تفصیلات میں کہا کہ ’راحت کی لاہور سے ابوظہبی اور حیدرآباد کے لئے سیٹ بک ہوئی تھی، لیکن حیدرآباد پہنچنے پر پتا چلا کہ ائیرلائن کی غلطی کی وجہ سے راحت فتح علی متذکرہ چار شہروں کے بجائے حیدرآباد پہنچ گئے۔ تاہم، قانون کے تحت ان کا انہی چاروں شہروں میں سے کسی ایک شہر جانا ضروری تھا، مجبوراً راحت کو حیدرآباد سے ابوظہبی لوٹنا پڑا جہاں سے وہ دہلی اور پھر حیدرآباد پہنچے۔

راحت فتح علی 29 گھنٹے کا سفر کرکے حیدرآباد پہنچے۔ تاہم، طویل سفرکے باوجود راحت نے مسلسل 3 گھنٹے یادگار پرفارمنس دی اور اس نئی سال کی پہلی رات کو محفل میں موجود ہر شخص کے لئے کبھی نہ بھولنے والی یادگار رات بنا دیا۔

راحت کے سروں اور آواز پر جھومتے حیدرآباد کے عوام نے موسیقی کے اس ’گرو‘ کو دل کھول کر سراہا اور داد دی۔ راحت فتح علی خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سال کے پہلے ہی روز دونوں ملکوں کی عوام کو محبت اور موسیقی کے قریب لانے کی ابتدا کر دی ہے۔ امید ہے سال2016 بھارت اور پاکستان کے لئے امن اور ہم آہنگی کا سال رہے گا۔

XS
SM
MD
LG