رسائی کے لنکس

سینئر تجزیہ کار، افغان امور کے ماہر رحیم اللہ خان یوسفزئی انتقال کر گئے


رحیم اللہ یوسفزئی، فائل فوٹو )

سینئر صحافی، افغان امور کے ماہر اور جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز کے ساتھ 1990 سے منسلک رحیم اللہ یوسفزئی طویل علالت کے بعد جمعرات کی رات انتقال کر گئے۔

وہ گزشتہ ایک سال سے سرطان کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کا پشاور میں علاج ہو رہا تھا۔

انہوں نے تین بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑیں ہیں ۔ ان کے اہلیہ کا تقریباً دو سال قبل کینسر کے عارضے کے باعث انتقال ہو گیا تھا۔

مرادن کے نواحی قصبے کاٹلنگ تحصیل کے گاؤں بابوزئی سے تعلق رکھنے والے رحیم اللہ یوسفزئی 10 ستمبر 1954 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی کے ایک سرکاری سکول سے حاصل کی۔ جب کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان کراچی کے ایک ارمی پبلک اسکول پاس کیا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے والد فوج میں ملازم تھے اس لیے انہوں نے اپنی تعلیم ملک کے مختلف ان شہروں سے حاصل کی جہاں ان کے والدتعینات ہوتے تھے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے سابق کلاس فیلوز میں فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی نمایاں ہیں۔

تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد رحیم اللہ یوسفزئی نے صحافتی زندگی کا آغاز 1970 کے عشرے میں کراچی سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار 'دی سن' سے کیا۔ بعد ازاں 1980 کی دہائی میں انہوں نے اسلام آباد کے ایک خود مختار تحقیقاتی ادارے میں بھی خدمات سرانجام دیں۔

1986 میں وہ اسلام آباد سے شائع ھونے والے ایک انگریزی اخبار 'دی مسلم' کے لیے پشاور میں اس کے بیورو چیف بن گئے۔

1990 کے وسط میں رحیم اللہ یوسفزئی دی مسلم سے الگ ہو کر 'دی انڈیپنڈنٹ' سے منسلک ہو گئے۔ لیکن یہ اخبار منظر عام پر آنے سے قبل ہی بند ہو گیا تھا۔ اور 1990 کے آخر میں وہ جنگ گروپ کے انگریزی اخبار 'دی نیوز' سے منسلک ہو گئے اور زندگی کی آخری سانس تک اسی اخبار سے وابستہ رہے۔

اپنی صحافتی زندگی کے دوران رحیم اللہ یوسف زئی نے متعدد بین الاقوامی اداروں اداروں کے لیے بھی کام کیا۔ انہیں افغان امور کا ایک ماہر سمجھا جاتا تھا اور اس سلسلے میں دنیا بھر کے نشریاتی اور تحقیقی ادارے ان سے رابطے میں رہتے تھے۔

اپنی صحافتی زندگی کے دوران رحیم اللہ یوسفزئی نے درجنوں اہم سیاسی مذہبی رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات سے ملاقاتیں اور ان کے انٹرویوز کیے تھے، لیکن انہیں سب سے زیادہ شہرت القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے انٹرویو سے ملی۔

اسامہ بن لادن کے علاوہ رحیم اللہ یوسفزئی نے تحریک طالبان افغانستان کے بانی ملا محمد عمر اخوند سے بھی کئی بار ملاقات کی تھی۔ 1987 کے آخر میں انہوں افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کی خصوصی دعوت پر 29 اور 30 نومبر کا اس تاریخی لویہ جرگہ میں شرکت کی تھی جس میں نہ صرف افغانستان سے روسی افواج کے انخلاء کی توثیق کی گئی تھی بلکہ اس لویہ جرگہ نے جمہوری انداز میں ڈاکٹر نجیب اللہ کو افغانستان کا صدر بھی منتخب کیا تھا۔

رحیم اللہ یوسفزئی پاکستان کے ان چند صحافیوں میں سے تھے، جنہوں نے طالبان کارروائیوں کو رپورٹ کیا، 1995ء میں وہ قندھار بھی گئے تھے۔

وہ دی نیوز کے علاوہ روزنامہ جنگ کے لیے کالم بھی لکھتے رہے۔ پشاور کے اردو اخبار میں بھی ان کے کالم اور رپورٹیں شائع ھوتی رہیں۔ انہوں نے 'ٹائم میگزین' کیلئے بھی کام کیا۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے امریکہ، برطانیہ،چین، روس، فرانس سمیت دنیا کے درجنوں ممالک کے دورے کئے اور وہاں پر مختلف موضوعات اور مسائل پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔

صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2004ء میں تمغہ امتیاز اور2009 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے علاوہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان، جمیعت علمائے اسلام 'ف' کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سمیت ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عہدیداروں نے رحیم اللہ یوسفزئی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک اور قوم کے لئے ایک سانحہ ہے قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG