رسائی کے لنکس

بھارت: زیادتی کے مجرم مذہبی رہنما کو 20 سال کی قید

  • سہیل انجم

گرو گورمیت کے وکلا نے بھی عدالت سے گزارش کی تھی کہ چوں کہ وہ ایک سماجی کارکن ہیں اس لیے ان کے ساتھ رعایت برتی جائے۔

بھارت کی ایک عدالت نے دو ساتھی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر ایک متنازع لیکن بااثر مذہبی گرو کو 20 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

ریاست ہریانہ کے شہر روہتک میں کی ایک خصوصی عدالت نے پیر کو 'ڈیرہ سچا سودا' نامی مذہبی خانقاہ کے سربراہ بابا گورمیت رام رحیم سنگھ کو سزا سنائی ہے۔ ان پر 65 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

جسٹس جگدیپ سنگھ نے روہتک کی سونیریا جیل میں، جہاں خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی، مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

فیصلہ سنانے کے لیے جج ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں پہنچے تھے۔ سیکورٹی نقطہ نظر سے ریاست کے شہر پنچکولہ کی عدالت کے بجائے سونیریا جیل میں خصوصی کورٹ روم بنایا گیا تھا۔ اسی جیل میں رام رحیم سنگھ کو بھی رکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فیصلہ سنائے جانے سے قبل بابا نے جج سے دست بستہ درخواست کی کہ انھیں معاف کر دیا جائے۔

گرو گورمیت کے وکلا نے بھی عدالت سے گزارش کی تھی کہ چوں کہ وہ ایک سماجی کارکن ہیں اس لیے ان کے ساتھ رعایت برتی جائے۔

مقدمے کی تحقیقات کرنے والے بھارت کے 'سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن' (سی بی آئی) نے عدالت سے سخت سے سخت سزا سنانے کی اپیل کی تھی۔

بھارت کے قانون کے تحت جنسی زیادتی کے معاملے میں کم از کم سات سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عدالت نے ملزم گورمیت کو زیادتی کے دو الگ الگ مقدمات میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی جو الگ الگ تصور کی جائیں گی۔ اس طرح وہ 20 سال تک جیل میں رہیں گے۔

فیصلہ سننے کے لیے ملزم گورمیت عدالت جانے کے لیے تیار نہیں تھے جس پر پولیس اہلکار انہیں بزور طاقت عدالت لے گئے۔ پولیس نے انہیں وارننگ بھی دی کہ اگر وہ قانون کی پابندی نہیں کریں گے تو ان کے ساتھ سختی برتی جائے گی۔

بھارتی ٹی وی چینلز کے مطابق جب جج نے فیصلہ سنایا تو بابا گورمیت زمین پر بیٹھ کر رونے لگے جنہیں بعد ازاں زبردستی وہاں سے اٹھایا گیا۔

فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت کے کمرے میں رام رحیم سنگھ کے علاوہ نو دیگر افراد موجود تھے۔

اس سے قبل 25 ستمبر کو عدالت نے انھیں جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا تھا جس کے بعد بھارت کی ریاستوں ہریانہ، پنجاب اور دہلی کے مختلف مقامات پر تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے تھے۔

پیر سزا سنائے جانے سے قبل ہریانہ، پنجاب اور متصل صوبوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

فیصلہ سنائے جانے سے عین قبل بابا کے حامیوں نے سرسا کے پھولکا علاقے میں دو گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

روہتک سینٹرل جیل کے اطراف میں نیم مسلح دستوں اور ہریانہ پولیس کے سیکڑوں اہلکار تعینات تھے جب کہ فوج کو بھی کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔

جیل احاطے سے 10 کلومیٹر دور تک لوگوں کی آمد و رفت بند تھی جب کہ صحافیوں کو بھی جیل دو کلومیٹر دور ہی روک دیا گیا تھا۔

روہتک رینج کے آئی جی کے مطابق اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ گورمیت رام رحیم کا کوئی بھی پیروکار روہتک ضلع میں داخل نہ ہو سکے اور جیل کی طرف نہ جا سکے۔

متنازع گرو کے بہت سے حامی پہلے سے ہی روہتک میں موجود ہیں۔

روہتک ضلع جیل کے ڈی سی اتل کمار نے بتایا کہ اگر گڑبڑ پھیلانے والے شخص کو دیکھا گیا کہ وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے فوراً گولی مار دی جائے گی۔

سرسا شہر میں جہاں 'ڈیرہ سچا سودا' کا ہیڈکوارٹر ہے، کرفیو نافذ ہے۔ ہیڈکوارٹر میں انٹرنیٹ معطل کر دی گئی ہے جب کہ بجلی کی سپلائی بھی بند ہے۔

ہریانہ کے ان کئی اضلاع میں بھی کرفیو نافذ ہے جہاں 'ڈیرہ سچا سودا' کے پیروکاروں کی بڑی تعداد ہے۔

کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال کے پیشِ نظر ہریانہ کے اسکولوں اور کالجوں کو دو دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 25 اگست کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد بھڑکنے والے فسادات پر قابو پانے میں ناکامی پر ریاستی حکومت پر زبردست تنقید کی جا رہی ہے اور وزیر اعلٰی ایم ایل کھٹر کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم 'بی جے پی' نے انھیں عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG