رسائی کے لنکس

رمضان ۔۔۔'کھل کر کھانے پینے کاصرف ایک مہینہ؟'


رمضان ۔۔۔'کھل کر کھانے پینے کاصرف ایک مہینہ؟'
رمضان ۔۔۔'کھل کر کھانے پینے کاصرف ایک مہینہ؟'

رمضان کیا آیا گویا کراچی کے گلی کوچے ہی بدل گئے۔ ازان ہوئی نہیں کہ نوجوان ،ادھیڑ عمر اور بوڑھے لوگوں کی بھیڑسر پر ٹوپی سجائے گلیوں میں مسجد کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ محلے میں کھلی پکوڑے والوں کی دکانیں بھی سر شام ہی گاہکوں سے بھرجاتی ہیں۔ حلوائی کے تو کہنے ہی کیا۔ شام کو سموسے، جلیبی، چکن رول، مٹن رول ، ویجی ٹیبل رول، پیاز، پالک، آلو اور بیگن کے پکوڑے خریدنے والوں کا رش لگا رہتا ہے تو روزے کے بعد سحری کے لئے کھجلہ ،پھینی اور دودھ میں بگھوکر کھانے والی پھیکی جلیباں خریدنے والوں کی کمی نہیں رہتی۔

افطار سے زرا پہلے فروٹ بیچنے والوں کی بھی چاندی ہوجاتی ہے۔ کون سا پھل ہے جو موسم بے موسم ٹھیلوں پر نہ بک رہا ہو۔ عام تاثر یہ ہے کہ روزہ دار دن بھر بھوکا رہتا ہے لیکن عمومی طورپر افطار کے وقت جس قدر زیادہ افطاری کا اہتمام ہوتا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ حقیقت جھوٹی محسوس ہونے لگتی ہے ۔افطاروسحر کا اہتمام اس حدتک بڑھ جاتا ہے کہ جو چیزیں سال بھر نہیں کھائی جاتیں وہ بھی رمضان میں سیر ہوکر کھائی جاتی ہیں۔

کھجلہ پھینی اور جلیبی کو ہی لے لیجئے۔ سارے سال کوئی بھی شخص انہیں کھانا تو کجا حلوائی بنانا بھی گوارا نہیں کرتا۔ حیرت انگیز طور پر یہ دونوں چیزیں عام دکانوں پر دوسو بیس روپے اور قصر شیریں و ل پسند جیسی مشہور دکانوں پر چار سو روپے فی کلوبک رہی ہیں۔۔۔اور وہ بھی لائن لگاکر۔

شربت سارا سال شاید دیکھنے کو بھی نہیں ملتے لیکن رمضان اور پیاس کے نام پر دس قسم کے شربت بازاروں اور گھروں میں دستیاب ہیں۔ روح افزا، مینگو اسکوائش، اسکوائش ،جام شیریں، دودھ والا روح افزا، میوے والا دودھ اورٹینگ۔ یہی وجہ ہے کہ شربت کی بوتل جو پہلے تیس چالیس روپے میں ملتی تھی اب بڑھتے بڑھتے ڈھائی سو روپے کی ہوگئی ہے۔

پاکستان میں ہر شخص مہنگائی کا گلا کرتا نظر آتا ہے مگر رمضان میں شاید ہی کوئی ایسا گھرانا ہو جہاں کم از کم دس پھل نہ کھائے جاتے ہوں مثلاً کیلا، تربوز، خربوزہ، آم، گرما، سیب، خوبانی، آڑو،آلو بخارہ ، انگور اور کھجور۔۔۔

پھر کھجور کی بھی کئی قسمیں ہیں جیسے مکہ کی کھجور، بصرہ کی کھجور، سندھ کی کھجور، ایرانی کھجور، حیدر آباد اور خیرپور کی کھجور ، ڈیرہ اسماعیل خان ،بلوچستان اور پنجاب کی کھجور۔ یہ سب کی سب قسمیں وافر مقدار میں موجود ہیں ،وافر مقدار میں ہی کھائی جاتی ہیں اوروافر مقدار میں ہی ایک دوسرے کو دی جاتی ہیں۔

روزہ جسم کی زکواة ہے اور جتنی بیماریاں بھرے پیٹ پر لگتی ہیں، بھوکے پیٹ پر نہیں لگتیں مگردلچسپ بات یہ ہے کہ دل بھر کچھ نہ کھانے کے بعد شام ہوتے ہی معدے پر جو زور پڑتا ہے وہ صرف معدہ ہی جانتا ہے۔وہ جتنا دن میں آرام کرتا ہے اس سے ڈبل اسے رات میں کام کرنا پڑتا ہے۔

کچھ لوگ رمضان میں پیٹ خراب ہونے کی شکایت کرنے کے باجود افطار کے وقت تیزمصالحہ دار چارٹ، دہی بڑے، بوندیاں، کباب ، پانی کی پھولکیاں، آلو کی پھلکیاں، کئی قسم کی چٹنیاں ،کیچ اپ، تلی ہوئی چیزیں سموسے، رول، پیٹس،چھولے یا چنے ، چنے کی دال،عربی پراٹھے، قیمہ بھرے پڑاٹھے، بریانی اور نہ جانے کیا کیا کھا جاتے ہیں۔ اور اگر ان سے کوئی پوچھ لے تو نہایت معصومیت سے جواب دیتے ہیں ۔ "ایک ہی مہینہ تو ملتا ہے کھانے پینے کا۔۔اب کیا انسان ایک ماہ میں بھی کچھ نہ کھائے۔ نہیں کھائے گا تو روزہ کیسے رکھے گا۔۔۔"

۔۔۔۔۔۔گویا رمضان روزے رکھنے اور عبادت کرنے کا مہینہ نہ ہو۔۔کھل کر کھانے پینے کا مہینہ ہو۔

XS
SM
MD
LG