رسائی کے لنکس

logo-print

رمادی سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد شدید مشکل میں


اس پل کے قرب و جوار میں پانچ لوگ گرمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

عراق کے شہر رمادی پر شدت پسند گروپ داعش کے قبضے کے بعد وہاں سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں جن میں اکثریت دارالحکومت بغداد کا رخ کیے ہوئے ہے۔

بغداد پہنچنے کے لیے ان افراد کو دریائے فرات پر قائم بزیبز پل عبور کرنا ہو گا جہاں قائم چیک پوسٹ کو کچھ ہی وقت کے لیے کھولا جا رہا ہے۔

اس وجہ سے انبار صوبے میں پل کے پاس اسے عبور کرنے کے لیے ہزاروں افراد جمع ہو چکے ہیں جن میں اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیمیں امدادی سامان تقسیم کر رہی ہیں۔

ملک میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد کی رابطہ کار لیزا گرینڈ کہتی ہیں کہ اس وقت ان کی ترجیح ان لوگوں کی مدد کرنا ہے۔

"اس وقت رمادی سے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں۔ یہ لوگ مشکل میں ہیں اور ہم ان کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔"

پناہ گزینوں کے لیے ناروے کی کونسل کے پروگرام کے سربراہ صلاح نوری کہتے ہیں کہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں نے انھیں بتایا کہ وہ تین سے چار روز تک 40 درجے سینٹی گریڈ گرمی میں پیدل سفر کرتے رہے ہیں۔

"بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں، ان کی تکالیف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے پل کے دونوں جانب لوگوں میں پینے کا پانی، خوراک اور حفظان صحت کی کٹس تقسیم ہیں لیکن ان کے بقول یہ امداد کافی نہیں ہے۔

اس پل کے قرب و جوار میں پانچ لوگ گرمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

عراق کے سکیورٹی حکام پل کی بندش کی وجہ سکیورٹی خدشات بتاتے ہیں اور ان کے بقول کوائف کی جانچ پڑتال میں خاصا وقت درکار ہے۔

پناہ گزینوں کی عالمی تنظیم "انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن" کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں رمادی سے تقریباً چالیس ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

داعش کے جنگجو اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ وہ خالدیہ نامی علاقے سے چند کلومیٹر ہی دور ہیں۔

XS
SM
MD
LG