رسائی کے لنکس

logo-print

کیا اس بار بھی رمضان ڈرامہ سیریز گیم شوز کو مات دے سکیں گی؟


فائل فوٹو

ایک طرف مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کی آمد آمد ہے تو دوسری جانب مختلف پرائیوٹ ٹی وی چینلز رمضان سیریز کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

اس بار پرائیویٹ ٹی وی چینل 'ہم' دو رمضان اسپیشل ڈراموں کے ساتھ میدان میں اترے گا جب کہ جیو انٹرٹینمنٹ بھی اپنی سبق آموز سیریز 'مکافات' کا نیا سیزن پیش کرے گا۔

تین برس قبل رمضان میں نشر ہونے والے 'سنو چندا' کی کامیابی کے بعد سے شروع ہونے والا سلسلہ کیا زیادہ دن چل سکے گا؟ اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

کیوں کہ پاکستانی معاشرے میں ٹرینڈز بدلتے دیر نہیں لگتی۔ تین سال پہلے تک رمضان میں گیم شوز کی ریٹنگ کا کوئی مقابل نہیں تھا اور گزشتہ برس رمضان سیریز کے بامقصد ڈراموں نے سب سے کامیاب گیم شو کو دوسری پوزیشن پر دھکیل دیا تھا۔

اس سے پہلے کہ رمضان سیریز پر بات کی جائے، رمضان ٹرانسمیشن کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

رمضان ٹرانسمیشن، پی ٹی وی بمقابلہ 'این ٹی ایم'

نومبر 1990 تک پاکستان میں صرف ایک ٹی وی چینل 'پی ٹی وی' کا راج تھا۔ رمضان کے دوران سحر اور افطار کے اوقات جاننے کے لیے تو لوگ سرکاری ٹی وی سے استفادہ کرتے ہی تھے۔ تاہم سحر سے قبل قوالی اور نعتیہ کلام اور افطار سے قبل کوئز پروگرام اور نام ور علماء کے لیکچرز اس مہینے پاکستان کے ہر کونے میں پی ٹی وی کی ہی دھوم تھی۔

لیکن پرائیوٹ ٹی وی چینلز کی آمد کے بعد معاملات تھوڑے بدلے۔ 90 کی دہائی میں 'این ٹی ایم' (نیٹ ورک ٹیلی ویژن مارکیٹنگ) نے پہلے اسلامی فلم 'اللہ و اکبر' نشر کر کے اور پھر ڈاکٹر ملک غلام مصطفیٰ کے بامعنی لیکچرز دکھا کر لوگوں کو اپنی جانب مبذول کیا۔ ٹرانسمیشن کے آغاز میں سورہ رحمان کی تلاوت اور پھر اسما الحسنیٰ نشر کرنا 'این ٹیم ایم' کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔

نئی صدی کے آتے ہی مزید پرائیویٹ چینلز کھل گئے اور جتنے زیادہ چینلز اتنی ہی زیادہ رمضان ٹرانسمیشنز ہونے لگیں۔

گزشتہ چند برسوں سے گیم شوز کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی وی چینلز نے رمضان گیم شوز کا آغاز کیا جس نے نہ صرف مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیے بلکہ ہر قسم کی رمضان ٹرانسمیشن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

'چاند پہ دستک' سے رمضان اسپیشل پلے کا آغاز

سن 2011 میں ہم ٹی وی نے 'چاند پہ دستک' کے نام سے جو بیج بویا اس سے آج تک دیگر چینلز مستفید ہو رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب رمضان سیریز کا کوئی تصور نہیں تھا، مصنف مصطفیٰ آفریدی اور ہدایت کار سیف حسن نے ایک ایسی روایت ڈالی جسے آج بھی کامیاب سمجھا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ رمضان سیریز شروع کرنے کا سہرا ہم ٹی وی کے سر ہی جاتا ہے۔

اُن کے بقول "اگر رمضان سیریز کا ماڈل کامیاب نہ ہوتا تو 'چاند پہ دستک' کے بعد کوئی اسے فالو نہ کرتا۔ ہم ٹی وی کی تقلید دیگر لوگوں نے بھی کی اور اس سال ہم ٹی وی ایک نہیں بلکہ دو ڈرامے نشر کرے گا۔ اگر مواد اچھا ہو تو رمضان سیریز چلتی ہے اور 'چاند پہ دستک' کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔"

رواں برس رمضان میں نشر ہونے والے دو ڈراموں میں سے ایک سیف حسن نے ہی ڈائریکٹ کیا ہے جو 'چاند پہ دستک' اور 'پھر چاند پہ دستک' کے بھی ہدایت کار تھے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا بھی کہنا تھا کہ گیم شوز کا ٹرینڈ آنے کی وجہ سے رمضان سیریز میں لوگوں کی دلچسپی کم ہو گئی تھی۔

اُن کے بقول "گیم شوز ایک خاص عوام کے لیے ہوتے ہیں، اور ڈرامہ دیکھنے والی عوام ان سے مختلف ہوتی ہے۔ تحفے تحائف بانٹنے والے ان پروگراموں کی وجہ سے لوگ آہستہ آہستہ رمضان سیریز کو بھولنے لگے تھے وہ تو شکر کریں کہ 'سنو چندا' کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر رمضان سیریز کا سلسلہ شروع ہوا جو رواں برس 'تانا بانا' اور 'چپکے چپکے' سے آگے بڑھے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اس سال دیگر چینلز بھی رمضان سیریز کی طرز پر ڈرامے نشر کریں گے۔ جتنا زیادہ اس ماڈل پر کام ہو گا اتنا اچھا ہے تاکہ لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ سبق بھی ملے۔"

مصطفیٰ آفریدی کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس بند سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی سخت ضرورت تھی۔

اُن کے بقول "اب جب کہ کرونا کی وجہ سے گیم شوز کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے تو رمضان سیریز نے ایک بار پھر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا شروع کردی ہے۔ اور کیوں نہ کریں، اچھی فیملی کامیڈی کون نہیں دیکھنا چاہتا، جب لوگوں کو میسر آتی ہے تو سب دیکھتے ہیں۔"

سنو چندا، دو سیزنز میں ہی تہلکہ مچا دیا!

آخر 'سنو چندا' میں ایسا کیا تھا کہ جس کی وجہ سے اس نے مقبولیت کے نہ صرف ریکارڈز توڑے بلکہ دوسروں کو اس کی تقلید کرنے پر مجبور بھی کیا؟ اس ڈرامے کی مصنفہ صائمہ اکرم چوہدری کا کہنا تھا کہ "ہمارے لوگوں کو روایتی موضوعات سے ہٹ کر جب بھی کچھ دیکھنے کو ملا انہوں نے اسے خوب سراہا۔"

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ویسے تو عام طور پر بھی لیکن رمضان میں بالخصوص ناظرین عام روایتی غم زدہ یا روتی ہوئی عورت پر مبنی کہانیوں سے ہٹ کر کچھ ایسی چیز دیکھنا چاہتے ہیں جن سے دل و دماغ پر بوجھل پن طاری نہ ہو۔"

بقول صائمہ اکرم چوہدری جن کا ڈرامہ 'چپکے چپکے' رواں رمضان ہم ٹی وی پر نشر ہو گا۔ "ہمارے ناظرین کی ایک بڑی تعداد ہلکی پھلکی رومینٹک کامیڈی جسے عرفِ عام میں فیملی ڈرامہ کہتے ہیں، دیکھتی ہے، خاص طور پر رمضان میں کچھ ہلکی پھلکی چیزوں کو دیکھنا ہمارے لوگوں کو زیادہ پسند ہے۔ میرے خیال میں سب چینلز کو رمضان کے لیے کچھ خصوصی بامقصد چیزوں پر ضرور کام کرنا چاہیے۔"

جیو ٹی وی کا مکافات ڈرامہ، سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی سیریز

بامقصد ڈراموں میں جیو انٹرٹینمنٹ کی سیریز 'مکافات' سب سے مقبول رمضان سیریز سمجھی جاتی ہے۔ جہاں ہم ٹی وی نے ہلکی پھلکی سیریز کا ماڈل اپنایا ہوا ہے تو وہیں جیو انٹرٹینمنٹ نے سبق آموز اور بامقصد سیریز کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا۔

سن 2019 میں 'احساس رمضان' نامی ٹرانسمیشن کا حصہ بننے والی اس سیریز کو نہ صرف اسی سال دوبارہ نشر کیا گیا بلکہ 2020 میں بھی اس نے گیم شوز کو ریٹنگ میں پیچھے چھوڑ دیا۔ اس سال بھی سیریز کا تیسرا سیزن رمضان میں نشر کیا جائے گا۔

ڈرامہ 'تانا بانا' کی کاسٹ
ڈرامہ 'تانا بانا' کی کاسٹ

'چپکے چپکے'، 'تانا بانا' سے رمضان سیریز کی واپسی

اس سال ہم ٹی وی اور جیو انٹرٹینمنٹ کے علاوہ بھی دیگر کئی چینلز رمضان کی مناسبت سے پروگراموں کا بندوبست کر رہے ہیں۔ کچھ تو اس مرتبہ بھی گیم شوز اور ٹاک شوز پر انحصار کریں گے۔ لیکن زیادہ تر بامقصد یا ہلکے پھلکے ڈراموں کی پروڈکشن میں مصروف ہیں۔

فلم اور ٹی وی کے معروف اداکار عامر قریشی کا ماننا ہے کہ رمضان سیریز ناظرین کو ایک ایسا موقع فراہم کرتی ہیں جس کا انتظار انہیں سارا سال کرنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رمضان سیریز کا تجربہ پاکستان میں کامیاب ہے۔

'تانا بانا' کی کاسٹ کا حصہ بننے والے اداکار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شام ساڑھے سات بجے اگر کوئی ڈرامہ نشر ہوتا ہے تو لوگ اس لیے بھی اسے دیکھ لیتے ہیں کیوں کہ اس وقت زیادہ تر گھروں میں یا تو لوگ کھانا کھا کر فارغ ہو چکے ہوتے ہیں یا ان کے ہاں کھانا تیار ہو رہا ہوتا ہے۔

ہدایت کار سیف حسن کا کہنا ہے کہ رمضان سیریز عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
ہدایت کار سیف حسن کا کہنا ہے کہ رمضان سیریز عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔

اُن کے بقول "رمضان سیریز کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لوگوں کو ہفتہ ہفتہ بھر انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ 30 دن میں کہانی شروع ہو کر ختم بھی ہو جاتی ہے اور دیکھنے والے بور بھی نہیں ہوتے۔ مغرب کے بعد اور رات کے کھانے سے پہلے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کے گھروں میں یا تو کھانا تیار ہورہا ہوتا ہے، یا پھر وہ افطار کرکے فارغ بیٹھے ہوتے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت اگر کوئی ڈرامہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرلیتا ہے، تو یہ اس ڈرامے کی جیت ہے۔ 'مجھے یقین ہے کہ تین سال قبل جو کام 'سنو چندا 'نے اور اس کے بعد اس کے سیزن ٹو نے کیا تھا اس سال وہ 'تانا بانا ' کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔'

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG