رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: زیادتی کا الزام کیوں لگایا، خاتون پر مبینہ قاتلانہ حملہ


اپوزیشن کے دباؤ کے بعد پولیس نے یہ کیس تحقیقات کے لیے سی بی آئی کے سپرد کر دیا ہے۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں خاتون اور اس کی وکیل کے کار حادثے میں زخمی ہونے کے واقعے کو مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی خاتون نے ایک رکن اسمبلی پر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کر رکھا ہے۔ کار حادثے میں خاتون اور اس کی وکیل شدید زخمی جب کہ اس کی دو رشتہ دار خواتین ہلاک ہو گئیں تھیں۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خاتون پر مبینہ قاتلانہ حملہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک قانون ساز کُلدیپ سینگر نے کروایا ہے۔ جو اس وقت خاتون کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے الزامات پر جیل میں ہیں۔

بھارت کے ٹی وی چینل انڈیا ٹو ڈے کے مطابق اتوار کو بھارت کی ریاست اتر پردیش میں خاتون کی کار کو اس وقت حادثہ پیش آیا جب وہ اپنی وکیل اور دیگر دو رشتہ دار خواتین کے ہمراہ ہائی وے پر سفر کر رہی تھیں۔

کار کو ایک ٹرک نے ٹکر مار دی تھی جس سے خاتون اور ان کی وکیل شدید زخمی جب کہ ان کی دو رشتہ دار خواتین موقع پر ہی ہلاک ہو گئی تھیں۔

خاتون اور ان کی وکیل شدید زخمی حالت میں ایک مقامی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

بی جے پی کے ممبر صوبائی اسمبلی کُلدیپ سینگر اس وقت جیل میں ہیں اور خاتون کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے الزامات پر ٹرائل شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

خاتون کے اہل خانہ کی جانب سے پولیس کو شکایت درج کروائے جانے کے بعد پولیس نے مبینہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس ضمن میں کُلدیپ سینگر اور اس کے بھائیوں سمیت کئی افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی خاتون نے 2017 میں کُلدیپ سینگر پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اس وقت اسے ہوس کا نشانہ بنایا جب وہ صرف 17 سال کی تھیں۔ کُلدیپ سینگر خاتون کے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

کُلدیپ سینگر کے وکیل اوادیش سنگھ نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ کار حادثہ صرف ایک حادثہ تھا۔ ان کے مؤکل پر قاتلانہ حملے کا الزام لگانا صرف انہیں سیاسی نقصان پہنچانے کے لیے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش حادثے کے طور پر کر رہی ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کے دباؤ کے بعد انہوں نے یہ کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (سی بی آئی) کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ خاتون کا مبینہ ریپ 2017 میں کیا گیا تھا اور پولیس کی جانب سے کوئی تحقیقات نہ ہونے کے بعد خاتون نے اپریل 2018 میں اُتر پردیش کے وزیر اعلٰی یوگی آدِتیا ناتھ کی رہائش گاہ کے باہر خود کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔

گزشتہ سال خاتون کے والد کو بھی بھارت کی ایک جیل میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے مبینہ قتل کا الزام کُلدیپ کے بھائی اتُل سینگر اور ان کے حامیوں پر لگایا گیا تھا جس کی تحقیقات بھارت کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG