رسائی کے لنکس

رقہ میں داعش کے 83 قیدیوں کو عام معافی


داعش کے قیدیوں کو عام معافی کے لیے رقہ کے سٹی کونسل میں لے جایا جا رہا ہے۔ 24 جون 2017
داعش کے قیدیوں کو عام معافی کے لیے رقہ کے سٹی کونسل میں لے جایا جا رہا ہے۔ 24 جون 2017

۔ کونسل کے ایک لیڈر مصطفی نے ایک تقریر پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں اس لیے چھوڑا جا رہا ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کسی بڑے عہدے پر نہیں ہے اور ان کے ہاتھوں پر کسی کا خون نہیں ہے۔

رقہ کی شہری کونسل داعش کی شہر سے مکمل بے دخلی کے بعد چھوٹے عہدوں کے 83 جنگجوؤں کو عام معافی دے رہی ہےجس کا مقصد امن اور استحکام کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرنا ہے۔

امریکہ کی سرپرستی میں شام کی حکومت مخالف ڈیموکریٹک فورسز نے رقہ کے علاقے میں زمینی کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ یہ شہر گذشتہ تین برسوں سے داعش کی خود ساختہ خلافت کی علامت اور ان کی عملی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔

ڈیموکریٹک فورسز کے سینیر عہدے داورں کا کہنا ہے کہ چند مہینوں کے اندر رقہ داعش کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے جو داعش کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا جس کے عہدے دار اس شہر میں بیٹھ کر دنیا بھر میں بم حملوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندیاں کرتے ہیں۔

ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے رقہ کا محاصرہ کیے جانے سے پہلے اس شہر کی آبادی تقریباً تین لاکھ تھی۔

داعش کے 83 قیدیوں کو رقہ شہر کے سٹی کونسل ہال بھیجا گیا جو شہر کے شمالی حصے کے قصبے عین عیسی میں واقع ہے۔ انہیں یہ معافی ایک ایسے وقت دی جا رہی ہے جب رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر آ رہی ہے۔

داعش کے قیدی ایک ایک کر کے بس سے نیچے اترے۔ سب سے چھوٹے قیدی کی عمر 14 سال تھی۔ کونسل کے ایک لیڈر مصطفی نے ایک تقریر پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں اس لیے چھوڑا جا رہا ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کسی بڑے عہدے پر نہیں ہے اور ان کے ہاتھوں پر کسی کا خون نہیں ہے۔

اس موقع پر مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔

ایک قیدی عبدالرحمن نے ، جس کی عمر 43 سال تھی نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ داعش کے ٹیکس کے محکمے میں کام کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میرے سات بچے ہیں ۔ میں نے داعش کے ساتھ اس لیے تعاون کیا کیونکہ میں اس کے سوا کچھ اور کر بھی نہیں سکتا تھا۔اس نے بتایا کہ مجھے 115 ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔

XS
SM
MD
LG