رسائی کے لنکس

logo-print

رقہ: داعش کے جانے کے بعد خواتین میں خوشی کی لہر


شامی شہر رقہ کی خواتین نے بتایا ہے کہ جب سے امریکی حمایت یافتہ افواج کی مدد سے شہر کو داعش کے دہشت گرد گروپ سے خالی کرایا گیا ہے، ان کی زندگی میں ایک نئی تازگی کا سا احساس پیدا ہوا ہے۔

امریکی قیادت والے اتحاد کی مدد سے اکتوبر 2017ء کو سیرئن ڈیموکریٹک فورسز نے شہر واگزار کرایا۔ تب سے رقہ کے مقامی مکینوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر کے حالات کو معمول پر لایا جائے گا، جو کسی وقت داعش کی خودساختہ خلافت کا فی الواقع دارالخلافہ تھا۔

رقہ کے قدیمی محلے میں مارکیٹ کو جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے، دکانوں پر خواتین کے ملبوسات اور کاسمیٹکس کھلے عام دستیاب ہیں، جو بات داعش کی حکمرانی کے دنوں میں ممکن نہیں تھی۔

خواتین کی بوتیک کا مالک ایک 37 برس کا مرد ہے۔ ان کے الفاظ میں ’’اب میں اپنے اسٹور کے سامنے دستیاب اشیا کو آویزاں کر سکتا ہوں‘‘۔

انھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’جب داعش یہاں موجود تھی، ہم بھڑکیلے ملبوسات اور عورتوں کے زیریں لباس کو اسٹور کے پچھلے حصے میں چھپا کر رکھتے تھے۔ مرد یہ چیزیں خواتین کو نہیں بیچ سکتے تھے، اس لیے ان کی فروخت کے لیے ہم خواتین کی خدمات حاصل کرتے تھے‘‘۔

دولت اسلامیہ کی حکمرانی کے دوران مقامی آبادی پر سخت گیر قسم کے سماجی ضابطے عائد تھے۔ مرد و زن جن کی آپس میں رشتہ داری نہ ہو ایک دوسرے سےگفتگو نہیں کر سکتے تھے۔

خصوصی طور پر خواتین کو سیاہ لباس پہننا پڑتا تھا، جس سے وہ اپنے جسم اور چہرے کو ڈھامپ کر رکھتی تھیں۔ حکم کی تعمیل نہ کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں، جس میں قید اور کوڑوں کی سزائیں شامل تھیں۔

جب رقہ پر داعش کی حکمرانی تھی، اس وقت ایک نوجوان بچی، جن کی عمر اب 21 برس ہے، انھوں نے بتایا کہ ’’مجھے یاد ہے کہ سڑک پر جاتے ہوئے داعش کی دو خواتین نے میری ایک دوست کی کس طرح بے عزتی کی تھی، اس بنا پر کہ ان کے خیال میں انھوں نے اپنا چہرہ مناسب طور پر نہیں ڈھانپا تھا۔ انھوں نے سیکورٹی وجوہ کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔

دہشت گرد گروپ نے ’الحسبہ‘ کے نام سے برائی کے خلاف احتساب کرنے والی پولیس فورس قائم کی تھی، جس کا کام اسلامی شریعہ کے قوانین کا نفاذ اور ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا جو شریعت پر عمل درآمد نہیں کرتے۔

ختام الموسیٰ کی عمر 30 برس ہے۔ وہ رقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے بقول، ’’اب اور اُس وقت کا کوئی مقابلہ نہیں‘‘۔

انھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’کم از کم اب میں سڑک پر آزادی سے گھوم پھر سکتی ہوں۔ میں جو چاہوں خرید سکتی ہوں۔ ماضی میں کسی معمولی بات پر مجھے گرفتار کیا جا سکتا تھا‘‘۔

بقول ان کے، ’’چونکہ میں نے اپنی انگلیوں پر نیل پالش لگائی تھی اور کھلے سینڈل پہنے تھے، اس بات پر مجھ سے کئی بار تفتیش کی گئی تھی۔ داعش کی حکمرانی کے دوران عورت ہونا ناقابل برداشت جرم تھا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG