رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک ٹائمز کا ایڈیٹوریل: آزادانہ دستیاب ہتھیار، ایک لمحہ فکریہ


یہ ایڈیٹویل اخبار کے ہفتے کے روز کے ایڈیشن میں شائع ہوا ہے۔ اخبار نے اپنی 95 برس کی تاریخ میں پہلی بار کسی ایڈیٹوریل کو صفحہ اول پر چھاپہ ہے، جس میں قانون سازوں سے اپیل کی گئی ہے کہ امریکہ میں 'اسلحے کی وبا کا خاتمہ لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں'

اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے اپنے فرنٹ پیج پر شائع کردہ ایک ایڈیٹوریل میں سختی سے کاربند گن کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایڈیٹوریل حالیہ شوٹنگ کے واقعات کے سلسلے کے بعد شائع ہوا ہے جس کا قوم شکار ہوئی ہے، جس سے اسلحے کی بنیاد پر تشدد کی کارروائیوں کے بارے میں طویل مدت سے جاری نااتفاقی پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ ایڈیٹویل اخبار کے ہفتے کے روز کے ایڈیشن میں شائع ہوا ہے۔ اخبار نے اپنی 95 برس کی تاریخ میں پہلی بار کسی ایڈیٹوریل کو صفحہ اول پر چھاپہ ہے، جس میں قانون سازوں سے اپیل کی گئی ہے کہ امریکہ میں 'اسلحے کی وبا کا خاتمہ لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہے کہ 'یہ ہماری اخلاقی پستی اور قومی کم مائگی کا مظہر ہے کہ سویلینز قانونی طور پر ایسے ہتھیار اپنے پاس رکھ سکتے ہیں جنھیں سفاکانہ رفتار اور مہارت کے ساتھ افراد کو ہلاک کرنے کے لیے ڈزائن کیا گیا ہے'۔

رائے زنی پر مبنی اس مضمون میں منتخب لیڈروں کی مذمت کی گئی ہے، جن کا کام، بقول اخبار، 'ہمیں محفوظ رکھنا ہے۔ لیکن، جنھیں ایسی صنعت سے پیسے بٹورنے کی لالچ اور سیاسی طاقت زیادہ عزیز ہے، جو صنعت طاقت ور ترین ہتھیاروں کے کھلے عام استعمال کو پروان چڑھا کر پیسے کماتی ہے'۔

امریکی عوام اسلحے پر کنٹرول کی جذباتی بحث میں الجھی ہوئی ہے، جس کا سبب حالیہ دِنوں ہونے والے المناک شوٹنگ کے واقعات ہیں۔ کولوراڈو میں صحت مرکز پر ہونے والی شوٹنگ میں تین افراد ہلاک ہوئے، جب کہ کیلی فورنیا میں اپاہجوں کی دیکھ بھال کے مرکز پر گولیاں چلائے جانے کے واقعے میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG