رسائی کے لنکس

logo-print

بیسویں صد ی میں خواتین تانیثیت کی علمبردار ڈاکٹر رشید جہاں


بیسویں صد ی کے اوائل میں جو خواتین تانیثیت کی علمبردار بن کر ابھریں ان میں ڈاکٹر رشید جہاں کا نام سر فہرست ہے۔ حالانکہ پیشے کے لحاظ سے وہ میڈیکل ڈاکٹر تھیں لیکن انہوں نے اپنے قلم سے تلوار کا کام لیا تھا۔ انہوں نے افسانے بھی لکھے اور مضامین بھی۔

ڈاکٹر رشید جہاں کا تعلق علی گڑھ کے ایک روشن خیال خاندان سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبد اللہ اور ان کی والدہ نے علی گڑھ میں تعلیم نسواں کا پہلا اسکول اور کالج قائم کیا تھا جو آج بھی عبد اللہ گرلس کالج کے نام سے معروف ہے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا ایک ادارہ ہے۔ ان کی والدہ بھی بہت روشن خیال تھیں اور ایک رسالہ ’خاتون‘ نکالتی تھیں۔ جس کا مقصد مسلم خواتین میں بےداری پیدا کرنا تھا۔

ڈاکٹر رشید جہاں کی پیدائش 29 جولائی سنہ 1905 کو علی گڑھ میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم وہاں حاصل کرنے کے بعد ان کا داخلہ لکھنﺅ کے مشہور ازا بیلا تھوبرون کالج میں کروا دیا گیا تھا۔ وہاں دو سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ دہلی کے لارڈ ہارڈنگ میڈیکل کالج میں داخل ہوئیں اور وہاں سے سنہ 1934 میں ڈاکٹر بن کر نکلیں۔ سنہ 1934 میں ہی ان کی شادی محمود الظفر کے ساتھ ہوئی جو اردو کے ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ امرتسر کے اسلامیہ کالج میں پرنسپل تھے۔ وہیں ڈاکٹر رشید جہاں کی ملاقات فیض احمد فیض سے ہوئی اور وہ با قاعدہ ترقی پسند تحریک کی سرگرم رکن بن گئیں۔ حالانکہ افسانہ نگاری انہوں نے اس سے پہلے ہی شروع کر دی تھی اور سنہ 1931 میں سجاد ظہیر کی ادارت میں ” انگارے “ کی اشاعت ہوئی تو اس میں ان کا افسانہ ’ پردے کے پیچھے ‘ اور’ دلی کی سیر ‘ شامل تھا۔ ’ انگارے‘ کی اشاعت کے بعد اس کے خلاف زبردست احتجاج ہوا تھا اور جگہ جگہ اس کی کاپیاں جلا دی گئی تھیں۔ بعد میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس کی کاپیاں ضبط کر لی گئی تھیں۔

بحیثیت ڈاکٹر ان کا تقرر لکھنﺅ میں ہوا تھا جہاں انہوں نے ترقی پسندو ں کے ساتھ مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین کو بہت تقویت پہنچائی تھی۔ اس زمانے میں سید سجاد ظہیر، مجاز لکھنوی، سردار جعفری وغیرہ لکھنﺅ میں ہی تھے جو سب کے سب ترقی پسند تحریک میں سرگرم طور پر شامل تھے۔ ڈاکٹر رشید جہاں ایک رسالہ ” چنگاری “ کی بھی مدیرہ تھیں جس کا مقصد خواتین میں ذہنی بیداری پیدا کرنا تھا۔ لکھنﺅ کے دوران قیام انہوں نے کئی ڈرامے لکھے اور انہیں اسٹیج بھی کیا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ” عورت“ اور دوسرے افسانے سنہ 1937 میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ ان کے انتقال کے بعد ’ شعلہ جوالہ ‘ کے عنوان سے سنہ 1968 میں اور تیسرا ’ وہ اور دوسرے افسانے ‘ سنہ 1977 میں شائع ہوا۔

ڈاکٹر رشید جہاں سنہ 1952 میں کینسر کا شکا رہوئیں انہیں علاج کے لئے ماسکو لے جایا گیا جہاں 13 اگست سنہ 1952 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

رشید جہاں ایک میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ اس کے علاوہ ان کی سماجی مصروفیات تھیں، ان سب کے باوجود انہوں نے افسانے او رمضامین لکھے، ڈرامے لکھے، انہیں اسٹیج کروایا اور اس مختصر سی زندگی میں اپنی چھاپ چھوڑ دی۔ احمد ندیم قاسمی نے سنہ 1946 میں ’نقوش لطیف‘ کے عنوان سے خواتین افسانہ نگاروں پر مشتمل ایک کتاب شائع کی تھی جس میں اس عہد کی 23 خواتین کے افسانے شامل تھے۔ اس مجموعے میں رشید جہاں کی ایک کہانی ’ قانون اور انصاف ‘ شامل ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے لکھا ہے

” ڈاکٹر رشید جہاں سے سوالنامے کا جواب حاصل نہ کیا جا سکا دراصل وہ تو اس نو ع کے مجموعے کے خلاف تھیں، قرة العین حیدر اور صدیقہ بیگم سیوہاروی نے میری دستگیری کی ورنہ حجاب امتیاز علی کی عدم شمولیت کے ساتھ نئے افسانہ کی ایک بانیا کی غیر موجودگی میرے مقصد کے لئے سخت مضر ثابت ہوتی۔

XS
SM
MD
LG