رسائی کے لنکس

بینظیر بھٹو کے مقدمہ قتل کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ


بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)

دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں 20 سے زائد افراد گرفتار ہیں جب کہ اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور دو اعلیٰ پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد پر بھی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیر کو ہونے والی سماعت میں مقدمے کے آخری گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

مقدمے میں نامزد ملزمان، راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ سعود عزیز اور سابق ایس پی خرم شہزاد بھی پیر کو عدالت میں پیش ہوئے۔

استغاثہ کے وکلا منگل سے اپنے حتمی دلائل کا آغاز کریں گے۔

دو بار ملک کی وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن رہنے والی بینظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جاتے ہوئے ایک خودکش حملے کا نشانہ بنی تھیں۔

دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں 20 سے زائد افراد گرفتار ہیں جب کہ اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور دو اعلیٰ پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد پر بھی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ مذکورہ تینوں افراد اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں۔

سنہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تھی لیکن پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود اس کے دورِ حکومت میں بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

پرویز مشرف نے اس خودکش بم دھماکے کا ذمہ دار کالعدم تحریک طالبان کے اس وقت کے امیر بیت اللہ محسود کو قرار دیا تھا لیکن بیت اللہ نے یہ الزام مسترد کر دیا تھا۔

بیت اللہ محسود 2009ء میں قبائلی علاقے میں ہونے والے ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

اب تک آٹھ مختلف جج اس مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں جب کہ اتنی ہی بار استغاثہ نے مختلف چالان بھی پیش کیے ہیں۔

اس کیس کی پیروی کرنے والے ایک سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار بھی 2013ء میں عدالت جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

تقریباً ساڑھے نو سال گزرنے کے باوجود بھی مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی بینظیر بھٹو کے قتل کا معمہ حل نہیں ہو سکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG