رسائی کے لنکس

​​سڑک پر قائم اس علم نگری میں تاریخ، فلسفہ، ادب، آرٹ اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف کتابیں موجود ہیں لیکن نایاب ہیرے حقیقی قدر دان ہی پاتے ہیں۔

زندگی کا پہیہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے مگر اس جدید دور میں بھی پڑھنے کے رسیا افراد کتابوں سے دوستی نبھا رہے ہیں۔

ایک وقت تھا جب لوگ کتاب کو تنہائی کا بہترین دوست اور ساتھی تصور کرتے تھے۔ لیکن اب اس کی جگہ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے لے لی ہے۔

انٹرنیٹ کو ایک لائبریری کہا جاتا ہے جہاں ہر قسم کی معلومات موجود ہیں۔ انسان جب چاہے انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرسکتا ہے۔ لیکن کتاب کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا شوق الگ ہی ہے۔

اگر آپ پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں اور وہ بھی کم خرچ میں تو راولپنڈی کے علاقے صدر کا رخ کریں جہاں انمول نگینے سڑک کنارے بکھرے پڑے ہیں۔

اسلام آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر راولپنڈی کے صدر بازار میں ہر اتوار کو لگنے والے پرانی کتابوں کے بازار سے من پسند کتابیں مل جاتی ہیں۔

بند دکانوں کے باہر اور روڈ کنارے لگنے والے پرانی کتابوں کے ان اسٹالز پر نادر کتابوں کی جلدیں بھی دستیاب ہیں۔

سڑک پر قائم اس علم نگری میں تاریخ، فلسفہ، ادب، آرٹ اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف کتابیں موجود ہیں لیکن نایاب ہیرے حقیقی قدر دان ہی پاتے ہیں۔

فٹ پاتھ پر لگے اسٹال پر موجود محمد فرحان نے بتایا کہ یہاں کتابیں سستی مل جاتی ہیں اور جیب پر بھی بھاری نہیں ہوتیں اور کچھ ایسی کتابیں ہیں جو دکانوں سے آپ کو نہیں ملتیں۔

روڈ اسٹال پر کتاب پڑھنے میں مصروف امجد چنا نے بتایا کہ انہیں قیمتی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے جو انہیں یہاں سے مناسب قیمت پر مل جاتی ہیں۔

ان کے بقول ایسے بازار لگنے چاہئیں کیونکہ انٹرنیٹ کی وجہ سے کتاب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے۔ انٹرنیٹ پر سب کچھ مل تو جاتا ہے لیکن جو مزہ کاغذ کی کتاب میں ہے وہ کمپیوٹر پر کتاب پڑھنے میں کہاں۔

ہر اتوار کو اس بازار میں اپنا اسٹال لگانے والے محمد ندیم نے بتایا کہ بعض پرانی کتابیں نایاب ہوتی ہیں اور اسی لیے ان کی قیمت تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔

شعور کے موتی بانٹنے والے کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے دور میں بھی مطالعے کا شوق رکھنے والوں کی کمی نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی نوجوان نسل کے پاس کتاب پڑھنے کا وقت نہیں۔

لوگوں میں جدید ذرائع کے استعمال کی شرح دن بہ دن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے کتاب اور اس کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسلام آباد کے 'پمز' اسپتال سے منسلک ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق کتابوں کے زیادہ مطالعے سے ذہن رواں ہوتا ہے اور روح کو تسکین ملتی ہے جبکہ کمپیوٹر کے زیادہ استعمال سے بینائی متاثر ہوتی ہے۔ لیپ ٹاپ کا زیادہ استعمال دل کی دھڑکن متاثر کرنے کا سبب بنتا ہے اور انسان میں چڑچڑا پن پیدا کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG