رسائی کے لنکس

ریمنڈ کیس کی دوبارہ گونج، فیضان کی بیوہ تین ماہ بعد منظر عام پر آ گئی


ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف احتجاج کا ایک منظر۔ فائل

امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے فیضان حیدر کی بیوہ، زہرہ فیضان تین ماہ بعد منظر عام پر آگئی۔ زہرہ فیضان کاکہناہے کہ دیت کی رقم کو ملک و قوم کے مفاد میں قرار دے کر مجھے قائل کیا گیا ورنہ میں آخری دن تک راضی نہیں تھی۔

پاکستانی ٹی وی چینل اے آروائی کو دیئے گئے تازہ ترین انٹرویو میں زہرہ کا کہنا ہے کہ ایک رات پہلے کچھ لوگ اسے لے کر گئے اور دیت کی رقم کی پیشکش کی ۔ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر وہ رقم نہیں بھی لے گی توبھی ریمنڈ تو رہا ہو ہی جائے گا لہذا قوم و ملک کے مفاد میں بھی یہی ہو گا کہ میں یہ رقم قبول کر لوں۔

ریمنڈ کیس کی دوبارہ گونج، فیضان کی بیوہ تین ماہ بعد منظر عام پر آ گئی
ریمنڈ کیس کی دوبارہ گونج، فیضان کی بیوہ تین ماہ بعد منظر عام پر آ گئی

زہرہ نے مزید بتایا کہ اگلے روز جب وہ کوٹ لکھپت جیل پہنچی تواس کے سسرال والے اور فہیم کے اہلخانہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔ وہ سب دیت کی رقم لینے پر راضی تھے۔ اس موقع پر اگر وہ یہ رقم نہ بھی لیتی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

زہرہ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی تھی کہ ریمنڈ کو پھانسی ہو لیکن صورتحال بتا رہی تھی کہ ایسا ناممکن ہے ۔ اس صورتحا ل میں اس نے اپنے اور مقتول فیضان کے بچے کے شاندار مستقبل کیلئے یہ قدم اٹھایا ۔اس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ سترہ لوگ تھے جنہوں نے یہ رقم لی ۔ تاہم زہرہ نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ دیت کی اسے کتنی رقم ملی۔

روپوشی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں زہرہ کا کہنا تھا وہ تین ماہ سے اپنے والدین کے ساتھ تھی ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس پر کسی قسم کو کوئی دباوٴ نہیں ہے۔ امریکی شہریت اور ویزا کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر زہرہ نے کہا کہ اسے ایسی کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ اس سے متعلق تمام خبریں جھوٹی ہیں ۔ میڈیا میں تو یہ تک بھی کہا گیا کہ میں امریکا یا سعودی عرب چلی گئی ہوں ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل زہرہ فیضان نے ایک اورانٹرویر میں کہا تھا کہ وہ دیت کی رقم نہیں لے گی۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ فیضان کا خون معاف نہیں کریں گی۔ انہیں صرف انصاف چاہیے۔ امریکہ اگر انہیں پوری اسٹیٹ بھی دے دے تو وہ اسے اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی ہیں۔ انہوں نے دھمکی بھی دی تھی کہ وہ بھی انصاف نہ ملنے پر خود کشی کرلیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ایک جان اور بھی ہے اور اگر ہمیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت اور عدلیہ ہو گی۔

XS
SM
MD
LG