رسائی کے لنکس

رضاہارون بھی ایم کیو ایم سے علیحدہ، نئی پارٹی کی تشکیل میں تیزی


مصطفی کمال نے پیر کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے نام کا اعلان 23 مارچ کو کریں گے۔

کراچی کا سیاسی منظر ان دنوں گرما گرم خبروں سے لبریز نظر آتا ہے۔ ایک جانب ایم کیوایم کے سابق سرگرم کارکنوں کے ایک کے بعد ایک مصطفی کمال کے سیاسی کیمپ میں پناہ لینے کی خبریں سب کے لئے توجہ کا باعث بنی ہوئی ہیں تو دوسری جانب مبصرین کی رائے میں متحدہ نے خود کو خبروں میں ’ان ‘ رکھنے کے لئے صفائی مہم شروع کی ہوئی ہے۔

پیر کی سہ پہر ایک جانب ایم کیو ایم سے حال ہی میں اپنی وابستگی ختم کرنے اور ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل میں مصروف مصطفی کمال نے اگلے ہفتے اپنی پارٹی کا نام رکھنے کا اعلان کیا تو دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی رضا ہارون نے بھی ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے مصطفی کمال کے ’کیمپ‘ جوائن کرنے کا انکشاف کیا۔

اس سے ایک روز قبل یعنی اتوار کو مصطفی کمال کے حق میں ایک ریلی نکالی گئی جو ان کی رہائش گاہ پر ختم ہوئی۔ ریلی کے اختتام پر مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے واضح اشارہ دیا کہ وہ اپریل کے دوسرے ہفتے میں عوامی جلسہ کریں گے۔

اس کے جواب میں نجی ٹی وی جیو نیوز سے نشر ہونے والی خبر کے مطابق پیر کی رات متحدہ کی جانب سے بھی 18مارچ کو جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جلسے میں ایک اہم شخصیت کے ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کئے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ شخصیت اپنے اندازِ تقریر اور لب و لہجے کے حوالے سے مشہور ہے۔

مصطفی کمال نے پیر کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے نام کا اعلان 23مارچ کو ’یوم پاکستان‘ پر کریں گے۔ سن 1940ء میں اسی دن پاکستان کی تشکیل کے لئے لاہور میں قرار داد پیش کی گئی تھی جس کی مناسبت سے یہ ملکی تاریخ کا اہم دن تصور ہوتا ہے۔

پیر کو ’کمال ہاوٴس‘ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رضا ہارون نے ایم کیو ایم کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ کی تقریر پر پابندی کے خلاف کوئی لاہور ہائی کورٹ نہیں جاتا کہ کہیں پابندی ہٹ ہی نہ جائے۔

رضا ہارون کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کسی ایک شخص کو خوش کرنے کے لئے نہیں بنائی گئی تھی، ایم کیو ایم جاگیردارانہ اور وڈیرانہ سوچ کے خلاف جہاد کی سوچ پرب نائی گئی تھی لیکن اب ایم کیو ایم ان وعدوں کو بھول چکی ہے۔

رضا ہارون کے بعد مصطفی کمال گروپ میں ایم کیو ایم سے علیحدہ ہونے والے رہنماوٴں کی تعداد 6 ہو گئی ہے جن میں خود مصطفی کمال، انیس قائم خانی، وسیم آفتاب، افتخار عالم اور ڈاکٹر صغیر احمد شامل ہیں۔

رضا ہارون ایم کیو ایم میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ رابطہ کمیٹی میں بھی رہ چکے ہیں اور رکن سندھ اسمبلی کے علاوہ سندھ حکومت میں وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

رضاہارون اور دیگر رہنماوٴں کی ایم کیو ایم سے علیحدگی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے متحدہ کے رہنما فاروق ستار کاکہنا ہے کہ ایم کیو ایم ایک سمندر ہے، اس سے چند قطرے نکل بھی جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن میں صفائی مہم کے جائزے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ضلع شرقی، غربی اور وسطی میں صفائی مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ ملیر، کورنگی اور دیگر علاقوں میں بھی صفائی کا عمل جاری ہے۔ شہر سے روزانہ 14 ہزار ٹن کچرا اٹھنا ممکن نہیں، ابھی صرف 25 فیصد کچرا اٹھایا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG