رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی ایم اور سیکورٹی فورسز کی جھڑپ پر سیاسی جماعتوں کی تشویش


فائل فوٹو

شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم اور پاکستانی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی منتخب نمائندہ ایسا حملہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تشدد پر افسوس ہوا ہے لیکن پرامن اور منتخب لوگوں کو اجتجاج کرنے کا حق ہے اور ان پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کسی کے مؤقف سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن فاٹا کے لوگوں کے تحفظات کو دور نہیں کیا جائے گا تو مسائل ہوں گے اور اگر ہم اپنے ہی سیاستدانوں کو غدار کا لیبل دیں گے تو یہ معاملہ خطرناک راستے کی طرف چلا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان اندرونی طور پر کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دونوں طرف اگر پاکستان کے بیٹے ہیں تو سیاسی، صحافتی حلقوں سمیت ریاست کے تمام اداروں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ ایک بار پھر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خاڑ کمر میں اندوہناک واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ کے تمام حقائق پارلیمان کے سامنے آنے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر سیاست کرنا قومی جرم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام محبان وطن صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اپنے گھر میں لڑائی، فساد اور افراتفری کا فائدہ دشمنوں کو ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس نوعیت کے سانحات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور حالات کی نزاکت اس بات کی متقاضی ہے کہ تدبر، سمجھداری اور قومی مفاد کی پاسداری کی جائے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ نہایت تشویشناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ دنیا کی کوئی فوج اپنے لوگوں اور ملک کو فتح نہیں کرتی۔

جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو لوگ اس واقعہ میں جاں بحق ہوئے یا زخمی ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری دنیا میں لوگوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور انہیں اس سے روکنا اشتعال اور شدت کو جنم دیتا ہے۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جبکہ آج عام آدمی ریاست اور حکومت کے ہاتھوں خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاستی قوت آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے عوام سے صبر و تحمل اختیار کرنے اور پرامن رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے پشتون تحفظ موومنٹ پر غیرملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر مسلسل پاکستان مخالف سرگرمی میں ملوث تھے جبکہ قبائلی عوام اس گروہ سے لاتعلق ہیں اور کچھ شرپسند عناصر ملکی ترقی کے راستے میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ یہ سازشیں دم توڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی بہت بڑی قربانی دی ہے اور اب دوبارہ یہاں شرپسندوں کو کسی طور نہیں آنے دیں گے۔

اس معاملہ پر عوامی نیشنل پارٹی کے سردار بابک نے کہا کہ پرامن مظاہرین پر گولیاں برسانا درست نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایسا کر کے پاکستانی عوام کو کیا پیغام دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے عوام کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا اور حکومت کے جو مشیر انہیں ایسے مشورے دے رہے ہیں وہ انہیں خونی انقلاب کی طرف لے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ کی خصوصی مصالحتی کمیٹی نے میرانشاہ واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ کمیٹی کے کنوینر بیرسٹر سیف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعے پر سیاست چمکانا افسوسناک ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات کی نزاکت کو سمجھنا ضروری ہے اور ہر پاکستانی کو قومی مفاد کا خیال رکھنا ہو گا۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم قیادت کو دو بار کمیٹی اجلاس میں بلایا گیا کیونکہ تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپس کے جھگڑوں سے پاکستان کو نقصان اور دشمن کو فائدہ ہو گا۔ کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ اور فریقین سے ملاقاتوں کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر ’’وی سٹینڈ ود پاکستان آرمی‘‘ اور ’’سٹیٹ اٹیک پی ٹی ایم ‘‘ کے ہیش ٹیگ چل رہے ہیں۔ پی ٹی ایم نے عیدالفطر کے تیسرے دن جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا می میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کشیدہ صورتحال میں اس جلسے کا انعقاد بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG