رسائی کے لنکس

پاکستانی والد کی طرف سے معافی اچھی روایت ہے

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

انسانی حقوق کے کمیشن کے شریک چیئرمین کامران عارف مقتول کے والد کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پختون معاشرے میں صرف تشدد ہی نہیں ہوتا۔

متحدہ عرب امارات میں ایک پاکستانی نوجوان کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے دس بھارتی شہریوں کو مقتول کے والد کی طرف سے معاف کیے جانے پر پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیبرپختنونخواہ سے تعلق رکھنے والا 22 سالہ محمد فرحان روزگار کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات میں مقیم تھا جہاں جولائی 2015ء میں ریاست العین میں اس کا جھگڑا بھارتی شہریوں سے ہوا جس میں وہ موت کا شکار ہوا۔

گزشتہ سال عدالت نے جھگڑے میں ملوث دس بھارتی نوجوانوں کو سزائے موت سنائی تھی۔ لیکن امارات میں مقیم ایک بھارتی کاروباری و سماجی شخصیت ایس پی سنگھ اوبرائے نے فرحان کے ورثا سے رابطہ کر کے ان سے مصالحت کی درخواست کی تھی۔

فرحان کے والد محمد ریاض گزشتہ ہفتے ہی متحدہ عرب امارات گئے تھے اور وہاں ہونے والی مشاورت کے بعد انھوں نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف کر دیا۔ اوبرائے کی طرف سے فرحان کے ورثا کو تقریباً 60 لاکھ پاکستانی روپے کے برابر خون بہا بھی ادا کرنے کا بتایا گیا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کے شریک چیئرمین کامران عارف مقتول کے والد کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پختون معاشرے میں صرف تشدد ہی نہیں ہوتا۔

"میری نظر میں یہ خوش آئند امر ہے کہ اگر انھوں نے سزائے موت کی جگہ ان لوگوں کو معاف کر دیا ہے یہ اچھا قدم ہے اسے سراہا جانا چاہیے۔"

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق محمد ریاض نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدقسمتی سے وہ اپنا بیٹا کھو چکے ہیں اور جن لوگوں نے یہ قتل کیا ان کے بھی بیوی بچے ہوں گے لہذا وہ انھیں معاف کرتے ہیں۔

انھوں نے عدالت میں تحریری طور پر یہ بیان جمع کروا دیا ہے کہ وہ خون بہا کے عوض ان قاتلوں کو معاف کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک اور سرگرم کارکن زرعلی آفریدی کے نزدیک قتل ایک انتہائی گھناؤنا فعل ہے جو کسی بھی صورت مناسب نہیں اور ان کے خیال میں اس کے بعد مقتول کے ورثا کو مصالحت کے لیے راضی کرنا درست نہیں۔

"کسی کو قتل کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں دوسرے جو مقتول کے رشتے دار ہیں ان پر اثر انداز ہونا کہ وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت کریں یہ مناسب نہیں۔۔۔مصالحت کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ رشتے دار کسی کو معاف کریں یہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قاتل کو سزا دے۔"

متحدہ عرب امارات کی عدالت میں اس معاملے کی سماعت اب 12 اپریل کو ہونی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات شروع ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں جن میں حالیہ مہیںوں مزید کشیدگی دیکھنے میں آچکی ہے۔

ایسے میں ایک پاکستانی کی طرف سے اپنے بیٹے کے قاتل بھارتی شہریوں کو معاف کیے جانے سے کیا پیغام ملتا ہے؟ اس پر کامران عارف اور زرعلی آفریدی دونوں کا ہی کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اختلافات ہیں جب کہ دونوں ملکوں کے عوام امن کے خواہاں ہیں اور ایسے اقدامات امن کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG