رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: شدت پسندوں کے حملے میں فوج کا اہلکار ہلاک


عسکری ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ پاک افغان سرحد کے نزدیک جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں پیش آیا۔

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے میں سرگرم مشتبہ شدت پسندوں نے جمعرات کو حملہ کرکے فوج کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا۔

عسکری ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں پیش آیا۔

ذرائع نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں، جب کہ علاقے میں میڈیا کی محدود رسائی کے پیش نظر معلومات کا حصول انتہائی مشکل ہے۔

پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے بیشتر حصے میں حکومت کی عمل داری بحال کی جا چکی ہے، تاہم چند دور افتادہ مقامات پر شدت پسندوں کی کارروائیوں سے متعلق اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتی رہی ہیں۔

امریکی و دیگر حکام کا ماننا ہے کہ القاعدہ اور طالبان تحریک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے پاک افغان سرحد سے ملحقہ وفاق کے زیرِ انتظام ان قبائلی علاقوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کر رکھی ہیں، جہاں سے عسکریت پسندوں کو امریکی اور اس کی اتحادی افواج پر حملوں کے لیے افغانستان بھی بھیجا جاتا ہے۔

امریکہ ان علاقوں میں اہداف کو ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بناتا رہا ہے، جن میں القاعدہ اور طالبان کے متعدد اہم کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا فوج کے مطابق عید الاضٰحی کے پہلے اور دوسرے روز صوبہ بلوچستان میں آوران اور مشاکے کے علاقوں میں شرپسند عناصر کی طرف سے حملوں کے باوجود فرنٹیئر کور اور فوج نے امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

عسکری عہدیداروں کے مطابق زلزلہ زدگان کو امداد کی فراہمی اور اُن کی بحالی میں مصروف اہلکاروں پر گزشتہ دو روز کے دوران تین حملے کیے گئے جن میں جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر راکٹ بھی داغے گئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ستمبر کے اواخر میں بلوچستان میں 7.7 شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ ضلع آوران متاثر ہوا تھا جہاں 400 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبائی حکومت علاقے میں سرگرم بلوچ مسلح گروہوں سے اپیل کر چکی ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے کاموں میں رکاوٹ نا ڈالیں اور امدادی اداروں کو کام جاری رکھنے دیا جائے۔
XS
SM
MD
LG