رسائی کے لنکس

logo-print

بے گھر افراد کی تعداد چھ کروڑ تک ہونے کا خدشہ: عالمی ادارہ


اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے ترجمان اڈریان ایڈورڈز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ رواں سال یہ تعداد چھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" نے متنبہ کیا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والوں کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

ادارے نے یہ بات سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران عالمی سطح پر ہونے والی نقل مکانی پر مبنی اپنی ششماہی رپورٹ میں بتائی۔

’یو این ایچ سی آر‘ کی رپورٹ میں ان ہزاروں پناہ گزینوں کو شامل نہیں کیا جو بحیرہ روم کا پُر خطر سفر کر کے یورپ پہنچے۔

لیکن رپورٹ میں کہا گیا کہ اعداد و شمار بہت ہی حیران کن اور خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

گزشتہ سال پناہ کی تلاش کے سرگرداں لوگوں کی نسبت یہ شرح اس سال 78 فیصد بڑھی جب کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد اندازے کے مطابق دو کروڑ سے بڑھ کر تین کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچی۔

ادارے کے ترجمان اڈریان ایڈورڈز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ رواں سال یہ تعداد چھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بے گھر افراد کی اتنی بڑی تعداد کبھی نہیں دیکھی گئی۔

"آج 122 میں سے ایک شخص کے پناہ گزین یا بے گھر ہونے کا امکان موجود ہے۔ اور جب لوگ پناہ گزین بن جاتے ہیں تو ان کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس کے تناظر میں یہ بہت تشویشناک بات ہے۔ کچھ لوگ تو کچھ ہی عرصہ ایسے رہتے ہیں لیکن کچھ کی پوری عمر ایسے ہی گزرتی ہے۔"

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جانے کی تعداد بھی تین دہائیوں میں سب سے کم شرح پر رہی۔

’یو این ایچ سی آر‘ کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے حکومتوں کی طرف سے بہت ہی کم سیاسی عزم کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG