رسائی کے لنکس

logo-print

’نئے مہمان کی خوش خبری ملی‘ تو سب کو بتاوٴں گی: ریما


’یہ بات میں بہت فخر سے کہتی ہوں۔۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں، تنقید نگاروں کی وجہ سے ہوں۔۔اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میری اداکاری کا ہنر ادھورہ رہ جاتا‘

کراچی۔۔پاکستانی ایکٹریس ریما خان اِن دنوں اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ’لو میں گم‘ ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’اب میں ’پیاری بہورانی‘ ہوں۔۔سید گھرانے کی بہو“۔ ۔۔”ابھی تو نہیں ہاں جب بھی گھر میں کسی ”نئے مہمان کی خوش خبری “ ملی سب کو بتاوٴں گی۔۔“

ریما خان نے کراچی پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ کے دوران صحافیوں سے نہایت خوشگوار موڈ میں بہت سی دلچسپ باتیں کیں۔ یہاں تک کہ اپنی کامیابی کا سہرا بھی اپنے نقادوں کو سونپتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ بات میں بہت فخر سے کہتی ہوں ۔۔آج میں جو کچھ بھی ہوں ، تنقید نگاروں کی وجہ سے ہوں ۔۔اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میری اداکاری کا ہنر ادھورہ رہ جاتا۔۔ان کی تنقید نے مجھے اچھی ایکٹریس بننے میں بہت مدد دی۔ “

اس سوال پر کہ ان کی ذاتی زندگی آج کل کس’ردھم‘ پر چل رہی ہے ۔۔۔ریما کا کہنا تھا، ”آج زندگی پریوں کی کہانی ہے۔ایسی کہانی ۔۔جس میں ایک عام پاکستانی لڑکی اسٹارڈم کی دنیا میں قدم رکھتی ہے تو ’یوٹرن ‘آجاتا ہے۔ اب میں اپنی زندگی کے ایک نئے فیز میں ہوں۔ جہاں میرے سسرال والے سب سے کہتے ہیں۔۔سید گھرانے کی بہو۔۔ریما۔۔۔پیاری بہو اور پیاری سی بھابھی۔۔“

پاکستان سے باہر خاص کر پڑوسی ملک میں جاکر کام نہ کرنے کے سوال پر ریما نے کہا، ”وطن سے محبت نے مجھے بالی ووڈ جانے سے ہمیشہ روکے رکھا۔ ۔۔یہی وجہ تھی کہ آفر ہونے کے باوجود میں نے کبھی وہاں کا رخ نہیں کیا۔“

اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن کے حوالے سے ریما کا کہنا تھا، ”میری شادی سب کے لئے ایک مثال ہے۔ خاص طور سے فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں کے لئے۔ میں نے اپنے کیرئیر کے عروج کے دنوں میں گھر بسانے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ، پہلے میں خود شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈر رہی تھی۔ لیکن، اب میں یہ کہتی ہوں کہ ہر لڑکی کو یہ فیصلہ کرنا چاہئیے۔ تجربات ہی انسان کو سب کچھ سیکھاتے ہیں۔“

ریما نے ایک اور سوال پر ہنستے ہوئے بتایا، ”ابھی تو نہیں۔ ہاں، جب بھی گھر میں کسی نئے مہمان کی خوش خبری ملی، سب کو بتاوٴں گی۔۔“

ریما کا مزید کہنا تھاکہ میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ اپنی فلم کے ذریعے میں نے جو پودا لگایا تھا، اب اس کے ثمرات فلمی صنعت میں نمایاں ہونے لگے ہیں اور نوجوان فلم میکرز کی فلم انڈسٹری میں آمد اس کازندہ ثبوت ہے۔

ریما کا کہنا تھا کہ وہ فلمی صنعت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ اس غرض سے وہ انڈسٹری میں سرمایہ کاری بھی کریں گی۔

انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بطور ڈائریکٹر ان کی فلم آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہو۔
XS
SM
MD
LG