رسائی کے لنکس

logo-print

اسکاٹ لینڈ کی آزادی پر ریفرنڈم میں سخت مقابلے کی توقع


ریفرنڈم میں ہاں اور نہیں کے درمیان بہت کم فرق نے برطانیہ بھر میں ایک تشویش کی لہر کو جنم دیا ہے۔ تین سو سال تک متحد رہنے والی یونین سے جلد ہی ایک نئی ریاست کے جنم لینے کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ کا حصہ رہنے یا اس سے علیحدہ ہونے پر ریفرنڈم آئندہ ہفتے ہونے جارہا ہے لیکن حالیہ جائزوں کے مطابق اس ضمن میں مقابلہ بہت سخت ہے اور کسی بھی نتیجے کی پیش گوئی کرنا فی الوقت بہت مشکل ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کو اپنی ایک تقریر میں کہا کہ "بلاشبہ یہ ایسا معاملہ ہے جس کا مکمل دارومدار اسکاٹ لینڈ کے عوام پر ہے۔ لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ یہ بھی نظر میں رکھیں کہ برطانیہ ان کا کتنا خیال کرتا ہے اور انھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔"

کیمرون نے دو سال قبل اس ریفرنڈم پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اسکاٹ لینڈ کی پہلے ہی ایڈنبرگ میں ایک علیحدہ پارلیمنٹ ہے لیکن محصولات بڑھانے سے متعلق اس کے اختیارات بہت محدود ہیں اور لندن ہی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں کے فیصلے کرتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سالمنڈ کہتے ہیں کہ یہاں ہمیشہ ہی سے ایک محدود تعداد میں لوگ علیحدگی کے حامی رہے ہیں لیکن حالیہ دو برسوں میں اس تاثر کو مزید تقویت ملی ہے کہ آزادی ان کے لیے مزید بہتر ہے۔

اس ساری بحث میں ایک اور نقطے نے سر اٹھایا ہے کہ آیا اسکاٹ لینڈ برطانیہ سے علیحدہ ہونے کے بعد اقتصادی طور پر بھی بہتر ہو سکے گا یا نہیں۔

شمالی بحیرہ کا مشرقی ساحل تیل کی ترسیل کا ایک بڑا مرکز ہے اور برطانیہ کے تیل کے 90 فیصد ذخائر اس مقام پر ہیں جو علیحدگی کی صورت میں اسکاٹ لینڈ کے حصے میں آئے گا۔

اسکاٹ لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہاں 24 ارب بیرل تیل موجود ہے لیکن برطانوی حکومت کے مطابق یہ مقدار 15 ارب کے لگ بھگ ہے۔

ریفرنڈم میں ہاں اور نہیں کے درمیان بہت کم فرق نے برطانیہ بھر میں ایک تشویش کی لہر کو جنم دیا ہے۔ تین سو سال تک متحد رہنے والی یونین سے جلد ہی ایک نئی ریاست کے جنم لینے کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG