رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے، کیا سستی بجلی کا خواب پورا ہوگا؟


فائل فوٹو

پاکستان میں وفاقی حکومت بجلی کے شعبے میں اصلاحات لا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں انڈیپینڈیٹ پاور پروڈیوسرز ​(آئی پی پیز) کے ساتھ نئے معاہدے بھی کیے گئے ہیں جس کے بعد بجلی کی قیمت کم ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہو گا۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر اعلانات تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد پر سوالیہ نشان رہتا ہے۔

نئے معاہدے کے تحت بجلی گھر کی مجموعی صلاحیت کے بجائے حاصل اور استعمال کی گئی بجلی کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔

پاکستان میں اس وقت 22 ہزار 300 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جس میں آئی پی پیز سے 11500 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ جب کہ آئی پی پیز کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 18104 میگاواٹ ہے۔

ملک میں پن بجلی سے سات ہزار 200 میگاواٹ اور سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

حکومت کے آئی پی پیز سے مذاکرات

پاکستان میں حکومت نے آئی پی پیز کے حکام سے طویل مذاکرات کے بعد ایک نئے میمورینڈم آف انڈرسٹنڈنگ (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں جس کا باقاعدہ اعلان وزیرِ اعظم عمران خان نے 14 اگست کو کیا تھا۔

وزیرِ اعظم نے بتایا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت بجلی کی پیداواری قیمت کم ہونا شروع ہو جائے گی جس سے صنعت اور عوام کو فائدہ ہو گا جب کہ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کم کرنے کے لیے جامع پیکج لایا جا رہا ہے۔

وزیرِ توانائی عمر ایوب کے مطابق پاکستان میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مسائل ہمیں ورثے میں ملے۔ سابقہ حکومتوں نے توانائی کے شعبے میں مسائل پر توجہ نہیں دی لیکن اب آئی پی پیز سے نئے معاہدوں سے ملک میں صنعتوں کو فروغ ملے گا۔

ماہر معیشت فرخ سلیم نے اس نئی صورتِ حال کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ماضی میں آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں اور معاہدوں میں شامل قومی اداروں کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہو سکے گی؟

اُن کا کہنا تھا کہ ایگریمنٹ کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے۔ یہ ایم او یو ہے جس کے 12ویں صفحے پر لکھا ہے کہ اوریجنل پاور ایگریمنٹ میں اس ایم او یو کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

تجزیہ کار حسن عسکری کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومتی اعلانات تو ہوتے ہیں لیکن جب عمل درآمد ہوتا ہے تو کافی فرق پایا جاتا ہے۔ اس سے بجلی کی قیمتوں میں کمی ہو گی یا نہیں۔ اس کے لیے ابھی ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔

نئے معاہدے

حکام کا کہنا ہے کہ دوست ملک چین کی کمپنیوں کے توانائی کے منصوبوں کے ٹیرف پر نظرِ ثانی کی گئی ہے جس سے 300 ارب روپے سے زائد سالانہ فائدہ ہوگا۔ ونڈ پاور سے چلنے والے 13 بجلی گھر حکومتی کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں۔

حکام کے مطابق اسی طرح سی پیک، آئی پی پیز اور سرکاری پاور پلانٹس کے ٹیرف پر نظرِ ثانی سے قومی خزانے کو ایک ہزار ارب روپے سے زائد فائدہ پہنچے گا جس سے آنے والوں برسوں میں بجلی سستی اور گردشی قرضوں سے چھٹکارا حاصل ہو گا۔

معاہدے کے تحت ونڈ انرجی ٹیرف 25 روپے کے بجائے 14روپے فی یونٹ ہو گا اور اس معاہدے سے حکومت کو 700 ارب روپے سے زائد کی بچت ہو گی۔ 1994 اور 2002 کی پاور پالیسی کے تحت بجلی گھروں کو منافع ادائیگی ڈالرز کے بجائے روپے میں ہو گی۔ ڈالر کو روپے میں تبدیل کرتے وقت مستقبل میں ریٹ فکس کر دیا گیا ہے اور جب تک معاہدوں کی مدت ہے ڈالر کا ریٹ 148 روپے ہو گا۔

تھرپارکر: کوئلے کے ذخائر کے بارے میں تحفظات
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:30 0:00

معاہدے کے تحت نجی بجلی گھر حکومت کو 104 ارب روپے واپس کرنے پر تیار ہو گئے ہیں اور وصولی نیپرا کے ذریعے ہو گی۔ نجی بجلی گھروں نے یہ رقم اضافی بلنگ سے وصول کیے تھے۔

اسی طرح ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو منافع ڈالر میں ملے گا۔ معاہدے کے تحت پاور پلانٹس بند رہنے کی صورت میں کپیسٹی پے منٹ نہیں کرنی پڑے گی۔

ونڈ اور 2002 پاور پالیسی کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس اپنے منافع میں کمی کریں گے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری پر لگنے والے منصوبوں پر شرح منافع 11 فی صد ہوگا۔ فیول کی بچت میں مالکان صارفین کو فائدہ منتقل کریں گے۔

آئی پی پیز اسکینڈل کی رپورٹ

رواں برس اپریل میں حکومت کی تشکیل کردہ آئی پی پیز انکوائری کمیٹی نے رپورٹ وزیرِ اعظم عمران خان کو پیش کی تھی جس میں انکشاف ہوا تھا کہ 1994 کے بعد لگنے والے آئی پی پیز نے منصوبوں کی زائد لاگت اور قومی مفاد کے منافی معاہدوں سے ایک ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے ہیں۔ جب کہ جو معاہدے کیے گئے اس کی مثال دنیا پھر میں کہیں نہیں ملتی۔

رپورٹ کے مطابق 1994 کی پالیسی کے تحت لگنے والے پلانٹس مالکان سے نرم رویہ بھی رکھا گیا۔ پاکستان میں لگنے والے ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15 ارب روپے اضافی ظاہر کر کے نیپرا سے بھاری ٹیرف حاصل کیا گیا۔ جب کہ صرف کول پاور پلانٹس کی لاگت 30 ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا تھا کہ پاور پلانٹس کے مالکان کے ساتھ ’ٹیک اور پے‘ کی شرط پر بجلی خریدنے کا معاہدہ کیا گیا جس کے تحت پاور پلانٹس بند ہونے یا بجلی کی طلب کم ہونے کی صورت میں بھی حکومت اور عوام سالانہ اربوں روپے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

’کے الیکٹرک‘ میں خواتین میٹر ریڈر
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:41 0:00

رواں مالی سال کے دوران حکومت پاور پلانٹس کو کپیسٹی پے منٹس کی مد میں 900 ارب روپے جب کہ 2025 میں 1500 ارب روپے ادا کرنے کی پابند ہو گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاور پلانٹس کے مالکان کم فیول پر زیادہ بجلی بنا کر غیر منصفانہ منافع کما رہے ہیں۔ پاکستان میں لگنے والے پاور پلانٹس کے منافع کی مثال دنیا کی کسی بھی ملک میں موجود نہیں۔ غلط معاہدوں کی وجہ سے گردشی قرضہ 1800 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

کمیٹی نے آئی پی پیز کے مالکان سے 100 ارب روپے ریکوری اور معاہدوں پر نظرِ ثانی سے ٹیرف میں کمی کی سفارش کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG