رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی


انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا کہ 21 دسمبر تک یونان، بلغاریہ، اٹلی، سپین، مالٹا اور قبرص پہنچنے والے 1,005,504 افراد میں سے 816,752 افراد سمندری راستے سے یونان پہنچے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے منگل کو کہا ہے کہ اس سال زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے یورپی یونین پہنچنے والے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں ان دونوں اداروں نے کہا کہ ان میں سے نصف شام میں جنگ سے بھاگنے والے پناہ گزین ہیں، دیگر 20 فیصد افغان ہیں جبکہ سات فیصد عراقی ہیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا کہ 21 دسمبر تک یونان، بلغاریہ، اٹلی، سپین، مالٹا اور قبرص پہنچنے والے 1,005,504 افراد میں سے 816,752 افراد سمندری راستے سے یونان پہنچے۔

آئی او ایم کے سربراہ ولیم لیسی سوئنگ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہجرت ناگزیر ہے۔ یہ ضروری ہے۔‘‘

’’مگر صرف آنے والوں یا اس سال لاپتا ہونے اور ڈوبنے والوں کی تعداد گننا کافی نہیں۔ ہمیں اس کے لیے کام بھی کرنا ہو گا۔ ہجرت کو مہاجروں اور جن ملکوں میں ہجرت کی جائے دونوں کے لیے قانونی اور محفوظ ہونا چاہیئے۔‘‘

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین 2016 میں اتنی ہی تعداد میں مہاجرین کے لیے انتظامات کر رہا ہے مگر آئی او ایم کے ترجمان جوئیل مِلمین نے کہا کہ مستقبل کی تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس میں بہت سے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں جن میں شام کی جنگ کا خاتمہ اور یورپی ممالک کی طرف سے سرحدی حفاظت کے اقدامات شامل ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG